خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 342

خطبات مسرور جلد نهم 342 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مہدی، جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے خلیفہ ہیں تو پھر اُس وقت یہ جو غیر احمدی کرنل ویول صاحب تھے ، انہوں نے کہا کہ علماء کے نزدیک تو بانی جماعت احمد یہ نعوذ باللہ فتنہ پر داز تھے۔اس کے جواب میں احمدی نے حقائق پیش کئے اور بتایا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اس زمانے میں امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ دن بدن میرا ایمان ترقی کرتا چلا گیا۔آخر انہوں نے ایک وقت میں بیعت کر لی اور بیعت کرنے کے بعد تبلیغ کے میدان میں بڑی ترقی کر رہے ہیں اور تبلیغی شوق جو ہے اتنا ہے کہ وہاں سے ہمارے رپورٹ دینے والے مبلغ کہتے ہیں کہ جنون کی حد تک بڑھا ہوا ہے اور بعض جماعتیں بھی ان کے ذریعے سے قائم ہوئیں۔پھر امیر صاحب گیمبیا کہتے ہیں کہ اپر ریور ریجن (Upper River Region) میں ایک گاؤں سرائے محمود“ کے نام سے موسوم ہے۔وہاں ہماری اپنی مسجد ہے جہاں احمدی اور غیر احمدی اکٹھے نماز ادا کرتے ہیں۔دو مہینے پہلے پڑوس کے گاؤں میں غیر احمدیوں نے اپنی مسجد تعمیر کرلی۔”سرائے محمود “ سے ایک غیر احمدی نے اس نئی مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز ادا کرنے کا ارادہ کیا۔جمعہ کی صبح نماز فجر کے بعد وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا اور واپس گھر آکر جمعہ سے قبل کچھ دیر کے لئے سو گیا تو خواب میں دیکھا کہ غیر احمدیوں کی تعمیر کردہ مسجد میں جمعہ پڑھنے جارہا ہے تو خواب میں اُسے دکھایا گیا کہ جس مسجد کو تم چھوڑ کر جارہے ہو یعنی احمدیوں کی مسجد ، وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں زیادہ قبولیت کا درجہ رکھتی ہے بہ نسبت اس مسجد کے جہاں تم اب نماز پڑھنے جارہے ہو۔جاگنے کے بعد وہ احمد یہ مسجد میں گئے اور وہاں جمعہ کی نماز ادا کی اور اپنی خواب سنائی اور کہا کہ اب مجھ پر حقیقت کھل گئی ہے اور احمدیت واقعی سچی ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کر لی اور بڑے مخلص احمد ی ہیں۔گیمبیا کے امیر صاحب ہی لکھتے ہیں کہ وہاں ایک گاؤں ہے کنفینڈا (Kanfenda) ، وہاں کے سامبا جالو (Samba Jallow) صاحب ہیں۔انہوں نے خواب دیکھا کہ کچھ سفید فام لوگ پاکستانی لباس میں کسی مقام پر چڑھے ہیں۔یہ صاحب پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ اُن کو جواب ملتا ہے کہ یہ لوگ قادیان سے ہیں اور جس مہدی نے اس زمانے میں آنا تھا یہ اُس کے ساتھ ہیں۔سامبا صاحب نہیں جانتے کہ قادیان کیا ہے اور کہاں ہے؟ خواب میں سامبا صاحب نے دیکھا کہ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے مغرب سے مشرق کی طرف جارہے ہیں اور اس طرح کہ سفید فام لوگ اُسے بتاتے ہیں کہ یہ مہدی کے آنے کی علامت ہے۔جب سامبا صاحب فرافینی ٹاؤن میں آئے تو وہاں اُنہوں نے امیر صاحب گیمبیا کو دیکھا اور اُنہوں نے دیکھتے ہی کہا کہ ایسے ہی افراد تھے جو انہیں خواب میں دکھائی دیئے۔انہیں جماعت کا تعارف کروایا گیا تو انہوں نے وہیں بیعت کر لی۔بیعت سے قبل سامبا صاحب ملاؤں کے پیچھے لگ کر مشرکانہ زندگی گزار رہے تھے۔بیعت کے بعد یہ صاحب پنجوقتہ نمازی ہیں اور مالی معاونت میں بڑے پیش پیش ہیں۔جماعتی چندوں میں بڑے آگے بڑھے ہوئے ہیں اور ایک پاکیزہ زندگی گزار رہے ہیں۔