خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 330
330 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پس بندہ جب خدا تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اُسے سب طاقتوں کا مالک سمجھ کر اُس کی پناہ میں آنے کے لئے ، اُس کی مدد حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے ” اذکرکھ ، کہ میں تمہارا ذ کر کروں گا، تمہیں یاد رکھوں گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندے کو انعامات سے نوازے گا، اُسے اپنی پناہ میں لے لے گا، اُس کے دشمن سے خود ہی بیٹے گا اور بدلے لے گا۔اس کے لئے ہر قسم کے رزق کے ایسے دروازے کھولے گا جس کا بندے کو وہم و گمان بھی نہیں ہو گا۔اور ایسے قرب پانے والے لوگ ہی ہیں جن کے خلاف دنیا والے ہزار کوشش کر لیں اُن کو اُن کے مقاصد کے حصول سے نہیں روک سکتے۔پس جماعت احمدیہ کی ترقی ایسے ذکر کرنے والوں سے ہی خدا تعالیٰ نے وابستہ فرمائی ہے۔اور یہی ذکر ہے جو ہر فرد جماعت کی دنیاو آخرت سنوار نے والا بنے گا۔اور اُس بندے کو حقیقی شکر گزار بنائے گا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ذکر کے مضمون کے ساتھ ہی شکر کا مضمون بھی جاری فرما دیا ہے۔خدا تعالیٰ کو یاد رکھنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ بندے کو انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔اور پھر ان انعامات کو دیکھ کر جب بندہ شکر گزاری کا اظہار کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک اور دور شروع ہو جاتا ہے ، ایک نیا سلسلہ انعامات شروع ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آخر میں پھر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دیکھنا کبھی ناشکر گزاروں میں سے نہ ہونا، وَلا تَكْفُرُونِ ، کبھی ان نعمتوں کو ر ڈ کرنے والے نہ بن جانا۔اب کون عنظمند ان تمام فضلوں اور نعمتوں کو دیکھ کر پھر انہیں رڈ کرنے والا بن سکتا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان لا شعوری طور پر اُن کو ر ڈ کرنے والا اور ناشکر گزار بن جاتا ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل نہیں کرتا تو بے شک وہ زبان سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اظہار کرے لیکن عملی طور پر وہ اللہ تعالیٰ کی یاد کا اظہار نہیں کر رہا ہو تا۔دنیا میں جب ایک انسان دوسرے انسان کی بہت زیادہ چاہت اور یاد دل میں بسائے ہوئے ہو تو اُس کے منہ کو دیکھتا ہے۔یہ دیکھتا ہے کہ کس طرح میں اُس کی خواہشات کو پورا کروں ؟ کب وہ کوئی بات کرے اور میں اُس پر عمل کروں۔تو اگر اللہ تعالیٰ کی یاد کا دعویٰ ہے تو اللہ تعالی کی طرف دیکھنا بھی ضروری ہے۔اُس کے احکامات پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔اُس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ صحیح استعمال بھی ضروری ہے۔اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جو صحیح شکر گزاری کی کیفیت ہے جو تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے۔اور اگر یہ حقیقی تقویٰ نہیں تو پھر یہ کفرانِ نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومن کے لئے ایسے راستے متعین کر دیئے ہیں جو شکر گزاری سے نکل کر خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والے بن جاتے ہیں، اُس کے ذکر سے نکل کر اُس کی شکر گزاری میں لاتے ہیں۔پھر اُس کو اللہ تعالیٰ کے قریب ترین کرنے والے بن جاتے ہیں۔اور یہی ایک مومن کی خواہش ہونی چاہئے اور ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے۔پس یہ مضمون ہے جو ہر احمدی کو اپنے میں جاری کرنا چاہئے۔اب میں جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں جلسہ جرمنی کے حوالے سے چند باتیں کروں گا۔جیسا کہ میں نے کہا