خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 246

خطبات مسرور جلد نهم 246 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء رہا ہے اُس میں آپ کے ممد و معاون بنتے چلے جائیں تاکہ ہم اور ہماری نسلیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی بنتی رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آج نماز جمعہ کے بعد میں چند جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ مکرم صاحبزادہ راشد لطیف صاحب را شدی امریکہ کا ہے جن کی 27 اپریل کو لاس اینجلس میں وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت شہزادہ عبد اللطیف صاحب شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے اور صاحبزادہ محمد طیب لطیف صاحب کے صاحبزادے تھے۔ابتدائی تعلیم بنوں میں حاصل کی۔پھر تعلیم الاسلام کالج لاہور میں پڑھتے رہے۔پھر افغانستان چلے گئے۔کچھ عرصہ وہاں رہے۔جماعت سے نہایت اخلاص کا تعلق تھا۔ان کے گھر میں آکر احباب جماعت نماز پڑھا کرتے تھے۔65ء میں یہ امریکہ چلے گئے۔وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔پھر امریکہ میں سیٹل (Settle) ہو گئے۔امریکہ کی سیاٹل (Seattle) جماعت کے صدر بھی رہے۔کافی عرصہ سے کیلیفورنیا میں رہائش پذیر تھے۔جماعت کے جلسہ سالانہ میں تقاریر بھی کرتے رہے۔2005ء میں قادیان جلسے پر گئے تو وہاں بھی ان کو تقریر کا موقع ملا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے کہنے پر تذکرۃ الشہادتین کا دڑی “جو افغان کی افغانستان کی زبان ہے۔اس زبان میں انہوں نے ترجمہ بھی کیا۔ان کی اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔دوسرا جنازہ مکرم مبارک محمود صاحب مربی سلسلہ کا ہے۔4 مئی کو بڑی لمبی علالت کے بعد 42 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔1989ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے تھے۔نو سال تک پاکستان کے مختلف شہروں میں مربی رہے۔پھر 1998ء میں تنزانیہ چلے گئے۔آٹھ سال وہاں خدمت انجام دی۔تنزانیہ میں ان کو کینسر ہو گیا تھا۔وہاں سے پھر واپس پاکستان آئے۔علاج ان کا ہو تا رہا اور پھر سواحیلی ڈیسک میں وکالت تصنیف میں انہوں نے کام کیا۔باوجود بیماری کے بڑی جانفشانی سے کام کرتے رہے۔بڑی تکلیف دہ بیماری ہے اس تکلیف کا بھی بڑے صبر سے مقابلہ کیا۔کبھی کوئی ناشکری یا بے صبری کا کلمہ زبان پر نہیں آیا۔مسکراتے تھے۔خندہ پیشانی سے ہمیشہ ہر ایک سے بات کرتے رہے۔یہ موصی تھے۔آپ کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے علاوہ ان کے والدین بھی ہیں۔چار بھائی ہیں۔سیف علی شاہد صاحب امیر ضلع میر پور خاص کے بیٹے، حیدر علی ظفر صاحب مبلغ انچارج جر منی کے بھتیجے ہیں۔تیسر اجنازہ مظفر احمد صاحب ابن مکرم میاں منور احمد صاحب سید والا شیخو پورہ کا ہے۔مظفر احمد صاحب، فرزانہ جبین صاحبہ ، عزیزہ امته النور صاحبہ ، عزیزم ولید احمد ، عزیزم تصور احمد۔یہ پوری فیملی ہے جو موٹر سائیکل پر فیصل آباد سے چنیوٹ آرہے تھے۔راستے میں ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو پوری فیملی اللہ کو پیاری ہو گئی۔چھ سال، چار سال، دو سال کے ان کے تین بچے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں شعبان احمد صاحب کے خاندان سے سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے قادیان جا کر خواب کے ذریعہ سے احمدیت قبول کی تھی۔مظفر احمد صاحب