خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 242

خطبات مسرور جلد نهم 242 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء ہیں۔اُن کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور جو ان دروازوں سے خزانے کے حصول کے لئے داخل ہوں گے وہ اپنے آپ کو مالا مال کر لیں گے۔آج کل مسلمانوں میں جو بے چینی ہے اور دین کی مدد کا بعض میں احساس بھی ہے، بعض سنجیدہ بھی ہیں لیکن رہنمائی نہیں، اُن کو راستہ نظر نہیں آتا اور پھر مایوسی چھا جاتی ہے۔اور پھر یہ مایوسی بے چینی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے غلط طریق پر چلاتی ہے۔تو ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہئے اور ہمارے لوگ جو اُن تک پیغام پہنچاسکتے ہیں اُن کو پہنچانا چاہئے کہ یہ کوثر کا چشمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرستادے، اپنے محبوب کے عاشق اور عاشق صادق، جسے اس عشق کی وجہ سے امتی نبی ہونے کا مقام ملا ہے کے ذریعے سے پھر جاری فرما دیا ہے۔پس اگر مایوسی کو ختم کرنا ہے تو اس مسیح و مہدی کی آغوش میں آکر ، اُس سے مجڑ کر اپنی اس مایوسی کو ختم کرو۔کیونکہ یہی وہ اللہ تعالیٰ کا تائید یافتہ ہے جس کا تم انتظار کر رہے ہو۔غور کرو اور دیکھو کہ تمام طاقتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز کو دبانے اور ختم کرنے کے لئے متحد ہو گئیں۔گزشتہ سو سال سے زیادہ عرصہ سے متحد ہیں۔لیکن کیا اس آواز کو خاموش کیا جاسکا؟ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ یہ آواز دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور بڑی شان کے ساتھ دنیا میں گونج رہی ہے اور انشاء اللہ تعالی گو نجتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے حق میں زلزلوں کے نشان کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یاد رہے کہ ان نشانوں کے بعد ابھی بس نہیں ہے بلکہ کئی نشان ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ انسان کی آنکھ کھلے گی اور حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ کیا ہوا چاہتا ہے؟ ہر ایک دن سخت اور پہلے سے بد تر آئے گا۔خدافرماتا ہے کہ میں حیرت ناک کام دکھلاؤں گا اور بس نہیں کروں گا جب تک کہ لوگ اپنے دلوں کی اصلاح نہ کر لیں“۔( مجموعہ اشتہارات جلد نمبر 2 "النداء من وحی السماء صفحہ 638 مطبوعہ ربوہ) آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کا ہر ملک قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے۔اگر دنیا اس کو صرف ایک قدرتی عمل سمجھ کر ، جو سائنسدانوں کے نزدیک یاد نیا داروں کے نزدیک ہر کچھ عرصہ کے بعد ہوتا ہے ، نظر انداز کرتی رہے گی اور اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف توجہ نہیں دے گی تو یہ یاد رکھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے ساتھ ان آفات اور زلازل کا بڑا گہرا تعلق ہے۔یہ آفات دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی رہیں گی۔پس دنیا کو ہوشیار کرنے کے لئے ہر احمدی کا بھی کام ہے کہ جہاں وہ اپنی اصلاح اور اپنے ایمان کی پختگی کی طرف توجہ دے وہاں اس پیغام کے پہنچانے کے لئے بھر پور کوشش کرے۔دنیا کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے کی کوشش کرے کہ یہ ایک انتہائی اہم کام ہے جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔جہاں جماعت کا تعارف محبت، امن اور پیار کے حوالے سے کروا دیا گیا ہے وہاں اگلا پیغام یہ ہے کہ یہ ہمارے دل کی محبت، پیار اور امن کی آواز ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم انسانیت کو