خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 233
خطبات مسرور جلد نهم 233 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء شفاعت قبول کی جائے ، بنادے۔اے ہمارے رب ! ہماری یہ دعا قبول فرما اور ہم کو اس پناہ گاہ میں جگہ دے۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: اللهُمَّ فَصَلِّ وَسَلّمْ عَلَى ذلِكَ الشَّفِيعِ الْمُشَقَّعِ الْمُنَجِى لِنَوْعِ الْإِنْسَانِ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 5) اے اللہ ! پس تو فضل اور سلامتی نازل فرما اس شفاعت کرنے والے پر ، جس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے اور جو نوع انسان کا نجات دہندہ ہے۔اور نوع انسان کا نجات دہندہ اب صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں: رَبِّ يَا رَبِّ إِسْمَعْ دُعَائِي فِي قَوْمِي وَ تَضَرُّ عِى فِي اِخْوَتِي إِنِّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنِ وَشَفِيعٍ وَ مُشَقَّعٍ لِلْمُذْنِبِيْنَ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 22) اے میرے ربّ! تو میری قوم کے بارے میں میری دعا اور میرے بھائیوں کے بارے میں میری تضرعات کو سن۔میں تیرے نبی خاتم النبیین اور گناہگاروں کی مقبول شفاعت کرنے والے کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں فرماتے ہیں۔یہ آخری اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ : نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو گی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے ؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کیلئے زندہ ہے۔اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کیلئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اُس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دُنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کیلئے ضروری تھا۔کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کیلئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کیلئے دیا گیا تھا۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحه: 6، 7“۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 14،13)