خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 196
196 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم طرح دیکھتے ہیں۔آپ کے الفاظ اور آپ کا مشاہدہ جو ہے وہ آج بھی ان کے عمل کی گواہی دے رہا ہے کہ ایسے ہی عمل ہیں اور یہی آپ کے الفاظ کی صداقت پر گواہی ہے۔ان کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح آپ کو بتایا وہ آپ نے بیان فرمایا۔حالات کا جو حل آپ نے پیش فرمایا ہے وہ بھی اسی کتاب میں ہے۔اس کے بعد کچھ فرقوں کا ذکر فرما رہے ہیں۔کچھ مختلف لوگوں کا بھی ذکر فرمارہے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ : ” ان تمام فرقوں کو چھوڑ دو اور تلاش کرو کہ کہیں اللہ نے اپنی طرف سے کوئی علاج نہ نازل کیا ہو“۔(اللہ تعالیٰ نے کہیں اپنی طرف سے کوئی علاج تو نہیں نازل کیا) یا درکھو کہ ان فتنوں کا علاج آسمان میں ہے نہ کہ لوگوں کے ہاتھوں میں۔قرآن کریم میں پرانے لوگوں کے قصے پڑھ کے دیکھ لو کہ ان کے بارہ میں خدا تعالیٰ کی کیا سنت تھی۔پھر بعد میں آنے والوں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت کیونکر تبدیل ہو سکتی ہے ؟“ فرمایا ” کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ وقت امام کے ظہور کا نہیں ہے ؟۔۔۔جبکہ تم گمر اہی اور جہالت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔پھر اسلام پر حملے ہو رہے ہیں اور بلائیں جان ہی نہیں چھوڑر ہیں اور اس طوفانِ ضلالت میں تمہارے درمیان کوئی خادم دین نظر نہیں آتا۔حالت یہ ہے کہ لوگ خدا کی نصیحت اور قرآن کی ہدایت بھول چکے ہیں اور جو کچھ حدیثوں میں آیا ہے اسے بھی رو کر چکے ہیں۔کئی گمراہ کن عقائد میں عیسائیوں کے ہم زبان بن چکے ہیں۔انہیں اپنے کھانے پینے اور عیش و عشرت کی زندگی کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں۔کیا ان لوگوں سے دین کی اصلاح کی توقع کی جاسکتی ہے ؟“ فرمایا ” کہتے ہیں کہ صرف عیسی ہی مس شیطان سے پاک ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھول گیا ہے که إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ - کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم اور مس شیطان سے پاک نہ تھے ؟ پس آج حیات عیسی کے عقیدہ سے بڑا گناہ کوئی نہیں ہے۔اس عقیدہ کے ذریعہ تم عیسائیوں کی تائید کر رہے ہو“۔فرمایا: ” تم خود زمانے کی حالت پر غور کرو۔امت اتنے فرقوں میں بٹ گئی ہے کہ بجز خدائے رحمن کی عنایت کے ان کا اکٹھا ہونا محال ہے۔کیونکہ ہر ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہا ہے اور اب زبانی بحثوں سے بات جنگ و جدال اور قتال تک جا پہنچی ہے۔ایسی حالت میں کیا تم سمجھتے ہو کہ اختلافات کے اتنے بڑے پہاڑوں کو درمیان سے ہٹا کر تم آپس میں صلح کر کے یکجان ہو کر اسلام کے مخالفین کے سامنے میدان میں آسکتے ہو ؟ ہر گز نہیں“۔حالت تو یہ ہے کہ پاکستان میں ایک شہر میں ختم نبوت والوں کا جلسہ ہو رہا تھا اور تمام قسم کے شیعہ ، سنی، بریلوی، دیوبندی وغیرہ سب اکٹھے تھے۔اور تھوڑے عرصے کے بعد جس دن جلسہ تھا اس سے دو دن پہلے اُن میں پھوٹ پڑ گئی۔اور پھر تین مختلف جگہوں پر جلسوں کا انتظام ہوا۔ایک جگہ پر جہاں ایک تنظیم نے جلسے کا انتظام کرنا تھا وہاں سے پولیس نے اُن کو اٹھایا اور دوسری جگہ لے کے گئے۔ختم نبوت ان کے نزدیک ایک ایسا ایشو ہے جس پر یہ احمدیوں کے خلاف ایک جان ہو چکے ہیں، اکٹھے ہو چکے ہیں، اس ایشو پر بھی اکٹھے ہو کر جلسہ نہیں کر سکے اور تین مختلف جلسے ایک ہی شہر میں ہو رہے تھے۔تو یہ تو ان کا حال ہے۔