خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد نهم 187 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء اعتراض کرنے والوں کے مدلل جواب دیئے ہیں اور انہیں جواب دے کر چپ کرایا ہے ہمارے بھی سر فخر سے اونچے ہو گئے ہیں اور ہمیں بھی سکون کا سانس آیا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کسی وقت ان واقعات اور احساسات کا بھی ذکر کروں گا جو لوگوں کے آتے ہیں۔اس وقت جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب الھدی میں جو بادشاہوں اور مختلف طبقوں کو مخاطب کر کے توجہ دلائی ہے یا اُن کا حال پیش فرمایا ہے اُس میں سے کچھ حصے پیش کرتا ہوں۔اُس زمانے میں مسلمانوں کی کیا حالت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : مسلمانوں میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہے اور نیک لوگ سرخ گندھک کی مانند ہو گئے ہیں ( نیکی بالکل نایاب ہو گئی ہے۔ان میں نہ تو اخلاق اسلام رہے ہیں اور نہ بزرگوں کی سی ہمدردی رہ گئی ہے۔کسی سے بُرا آنے سے باز نہیں آتے خواہ کوئی پیار یار کیوں نہ ہو۔لوگوں کو کھولتا ہوا پانی پلاتے ہیں (یعنی تکلیفیں ہی دیتے چلے جاتے ہیں) خواہ کوئی خالص دوست ہی ہو۔اور دسواں حصہ بھی بدلہ میں نہیں دیتے خواہ بھائی ہو یا باپ یا کوئی اور رشتہ دار ہو اور کسی دوست اور حقیقی بھائی سے بھی سچی محبت نہیں کرتے اور ہمدردوں کی بڑی بھاری ہمدردی کو بھی حقیر سمجھتے ہیں۔اور محسنوں سے نیکی نہیں کرتے اور لوگوں پر مہربانی نہیں کرتے خواہ کیسے ہی جان پہچان کے آدمی ہوں۔اور اپنے رفیقوں کو بھی اپنی چیزیں دینے سے بخل کرتے ہیں بلکہ اگر تم (اپنی نظر دوڑاؤ) دوڑاؤ اپنی آنکھ کو ان میں اور بار بار ان کے منہ کو دیکھو۔( یعنی اپنی نظر دوڑاؤ اور ان کو دیکھو تو تم اس قوم کی ہر جماعت کو پاؤ گے فسق اور بد دیانتی اور بے حیائی کا لباس پہنا ہوا ہے۔اور ہم اس جگہ تھوڑا سا حال اپنے زمانہ کے بادشاہوں اور دوسرے لوگوں کا لکھتے ہیں جو ہوا پرست لوگ ہیں۔۔۔۔“ پھر آگے بادشاہوں کے حالات میں فرماتے ہیں:۔یہ عربی میں ہے ساتھ ساتھ اُس کا ترجمہ بھی آپ نے فرمایا کہ: ”خدا تیرے پر رحم کرے کہ اکثر بادشاہ اس زمانہ کے اور امراء اس زمانہ کے جو بزرگانِ دین اور حامیانِ شرع متین سمجھے جاتے ہیں وہ سب کے سب اپنی ساری ہمت کے ساتھ زینت دنیا کی طرف جھک گئے ہیں۔اور شراب اور باجے اور نفسانی خواہشوں کے سوا نہیں اور کوئی کام ہی نہیں۔وہ فانی لذتوں کے حاصل کرنے کے لئے خزانے خرچ کر ڈالتے ہیں۔اور وہ شرابیں پیتے ہیں نہروں کے کناروں اور بہتے پانیوں اور بلند درختوں اور پھل دار درختوں اور شگوفوں کے پاس اعلیٰ درجہ کے فرشوں پر بیٹھ کر اور کوئی خبر نہیں کہ رعیت اور ملت پر کیا بلائیں ٹوٹ رہی ہیں۔انہیں امور سیاسی اور لوگوں کے مصالح کا کوئی علم نہیں۔اور ضبط امور اور عقل اور قیاس سے انہیں کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔۔۔“۔فرمایا کہ ”۔۔۔اسی طرح حرمات اللہ کے نزدیک جاتے ہیں اور اُن سے بچتے نہیں۔“ (جو باتیں اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہوئی ہیں اُن کے نزدیک جاتے ہیں) اور حکومت کے فرائض کو ادا نہیں کرتے اور متقی نہیں بنتے۔یہی وجہ ہے کہ شکست پر شکست دیکھتے ہیں اور