خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 186
خطبات مسرور جلد نهم 186 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء پھر آپ نے فرمایا کہ یہ تعداد کا بڑھنا، مخلصین کا آنا اور آپ کی بیعت میں شامل ہونا، یہ ایک ایسا نشان ہے (ماخوذ از ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 129 جدید ایڈیشن) جو ہر روز پورا ہو رہا ہے۔آج بھی ہم خدا تعالیٰ کے یہ نظارے دیکھ رہے ہیں۔باوجود تمام تر مخالفتوں کے ، باوجود بعض مرتدین کی کوششوں کے جن کو دنیاوی لالچ نے دین سے دور کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں روزانہ کی ڈاک میں بلا ناغہ بعض دفعہ درجنوں میں، بعض دفعہ سینکڑوں میں اور کبھی ہزاروں میں بھی بیعتوں کی خوشخبریاں پڑھتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔بیعت فارم آتے ہیں اور بعض ایسے ایمان افروز واقعات ہوتے ہیں کہ سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے دلوں کی یہ کیفیت کوئی اور پیدا کر ہی نہیں سکتا جو ان نو مبائعین کے جذبات کی کیفیت ہوتی ہے۔پھر یورپ اور امریکہ میں بعض لوگ مجھے ملتے ہیں، جب اُن سے پوچھو کہ کس طرح احمدی ہوئے ؟ تو بتاتے ہیں کہ اپنے کسی غیر احمدی مسلمان دوست کے ذریعہ اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوئی یا ویسے ہی اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور غیر احمدی مسلمانوں سے رابطہ ہوا اور اسلام قبول بھی کر لیا لیکن بے یقینی اور بے سکونی کی کیفیت پھر بھی جاری رہی۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اتفاق سے احمدیت کا تعارف ہوا تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا کہ اس حقیقی اسلام کو قبول کیا جائے اور اس کی آغوش میں آیا جائے تاکہ دل کا سکون حاصل ہو۔اسی طرح مسلمانوں میں سے ہزاروں لاکھوں جب اپنی نیک فطرت کی وجہ سے حق کی تلاش کرتے ہیں تو حقیقت اُن پر آشکار ہو جاتی ہے، اُن پر کھل جاتی ہے۔وہ فوراً احمدیت قبول کرتے ہیں اور مسلمانوں میں سے جو احمدیت میں آتے ہیں اور حقیقی اسلام کو سمجھتے ہیں اُن کو تو خاص طور پر احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے خاندانوں اور ماحول کی وجہ سے بعض بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بعض دفعہ بڑی اذیت ناک صورتِ حال سے گزرنا پڑتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ثابت قدم رہتے ہیں اور اس ثابت قدمی کے لئے دعا کے لئے بھی لکھتے رہتے ہیں۔یہ ثابت قدمی وہ اس لئے دکھاتے ہیں کہ حقیقت کو پہچاننے کے بعد حقیقت سے دور ہٹ کر کہیں وہ گناہگار نہ بن جائیں۔اپنے علماء کا حال دیکھ کر انہیں نظر آ رہا ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو ہیں یہ قول و فعل کا تضاد رکھتے ہیں۔اُن کی علمی حالت ایسی نہیں کہ غیر مذاہب کے اعتراضات کا جواب دے سکیں بلکہ دفاع تو ایک طرف رہا بعض دفعہ مداہنت دکھا جاتے ہیں یا کہہ دیتے ہیں کہ اِن لوگوں سے بحث کی ضرورت نہیں اور یہ غیر اسلامی بات ہے۔خاص طور پر عرب ممالک میں رہنے والے جو ہیں وہ تو اب اکثر جان گئے ہیں۔جن لوگوں کا ایم۔ٹی۔اے سے رابطہ ہو گیا ہے، تعلق بجڑ گیا ہے چاہے انہوں نے احمدیت قبول کی ہے یا نہیں کی، عیسائی پادریوں کے اعتراضات کے جوابات جس طرح ٹھوس طور پر لاجواب کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے علماء دیتے ہیں اُن کے علاوہ اور کوئی اُن کو دینے والا نظر ہی نہیں آتا۔اُن کے علماء تو اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے۔کئی خطوط آتے ہیں کہ ہم اسلام پر اعتراضات سُن سُن کر بے چین ہوتے تھے اور دعائیں مانگتے تھے کہ خدا تعالیٰ ہماری اس بے چینی کو دور کرے اور ہمیں اسلام کی شان و شوکت دکھائے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرتے ہوئے ہمیں ایک دن اتفاق سے ایم۔ٹی۔اے دکھا دیا اور احمدی علماء نے جس طرح اسلام پر