خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 179
179 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے جواب کا مفہوم یہ تھا (اصل الفاظ نہیں)۔مفہوم یہ تھا کہ ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے اور پھر دعا فرمائی کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس کا جلد نیک نتیجہ ظاہر ہو گا اور جماعت کو چاہئے کہ ضمانت ہر گز نہ دیوے۔(اس مسجد کے لئے کسی قسم کی ضمانت نہیں دینی یا پارٹی بن کے ضمانت نہیں دینی)۔اگر مسجد چھوڑنی پڑے تو چھوڑ دی جاوے اور کسی احمدی کے مکان پر باجماعت نماز کا انتظام کر لیا جاوے۔مگر جماعت کے کسی فرد کو ضمانت ہر گز نہیں دینی چاہئے۔لکھتے ہیں کہ یہ خط خاکسار کے پاس محفوظ تھا۔غالباً مولوی عزیز بخش صاحب نے خاکسار سے لے لیا تھا اور واپس نہ کیا اس لئے سامنے نہیں۔(مفہوم انہوں نے یہ بیان کیا)۔پھر کہتے ہیں کہ حضور کے اس جواب کے آنے کے تھوڑے دنوں کے بعد اس عاجز کے دادا مذ کور بیمار ہو گئے اور چند دن بیمار رہ کر وہ فوت ہو گئے۔جو رپورٹ سب انسپکٹر پولیس نے کی تھی وہ سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے پاس بمراد انتظام مناسب بھیج دی۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے ایک مسلمان ای۔اے۔سی کو مقرر فرمایا کہ وہ احمدیوں اور غیر احمد یوں میں مصالحت کرا دے۔چنانچہ وہ کئی ماہ مسلسل کوشش کرتا رہا کہ مصالحت ہو جائے مگر کامیابی نہ ہوئی۔( ان لوگوں سے تو فیصلہ نہیں ہوا لیکن خدا تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا وہ بھی عجیب ہے)۔آخر دریائے سندھ کی طغیانی سے وہ حصہ شہر کا غرق ہو گیا۔( دریائے سندھ میں سیلاب آیا اور شہر کا وہ حصہ ہی غرق ہو گیا جس میں مسجد تھی اور مسجد گر گئی اور بعد ازاں سارا شہر ہی دریابر د ہو گیا اور نیا شہر آباد کیا گیا جس میں جماعت احمدیہ نے اپنی نئی مسجد تعمیر کرائی اور جہاں تک خاکسار کا خیال ہے نئے شہر میں سب سے پہلے جو مسجد تعمیر کی گئی وہ احمدیوں کی تھی۔(ماخوذازر جسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 3 روایت حضرت محمد اکبر صاحب صفحہ نمبر 126 تا 128 غیر مطبوعہ ) حضرت نظام الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد میاں اللہ دتہ صاحب سکنہ وچھو کی تحصیل پسر در ضلع سیالکوٹ لکھتے ہیں کہ نومبر 1904ء کا واقعہ ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ تشریف لائے تھے۔بندہ بھی حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔غالباً نماز ظہر کے بعد مسجد حکیم حسام الدین صاحب مرحوم میں حضرت نے مندرجہ ذیل نصیحت احباب جماعت کو فرمائی تھی۔فرمایا کہ لوگ تمہیں جوش دلانے کے لئے مجھے گالیاں دیتے ہیں مگر تمہیں چاہئے کہ گالیاں سُن کر ہر گز جوش میں نہ آؤ اور جو ابا گالیاں نہ دو۔اگر تم انہیں جواباً گالیاں دو گے تو وہ پھر مجھے گالیاں دیں گے اور یہ گالیاں اُن کی طرف سے نہیں ہوں گی بلکہ تمہاری طرف سے ہوں گی۔بلکہ تمہیں چاہئے کہ گالیاں سُن کر اُن کو دعائیں دو اور اُن سے محبت اور سلوک کرو تا کہ وہ تمہارے زیادہ نزدیک ہوں۔اس کے بعد حضور علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ذکر فرمایا کہ جب کفار اُن کو گالیاں نکالتے تھے اور طرح طرح کی تکالیف دیتے تھے تو وہ اس کے عوض اُن سے نیکی اور ہمدردی کا سلوک کرتے تھے۔ایسا کرنے سے بہت سے کفار اُن کے حسن سلوک کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہوئے۔پس تمہیں بھی اُن کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔کہتے ہیں یہ الفاظ جو میں نے بیان کئے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل الفاظ نہیں ہیں۔مفہوم یہی ہے۔انہوں نے اپنے الفاظ میں اُس کا خلاصہ یہ بیان کیا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 3 روایت حضرت نظام الدین صاحب صفحہ نمبر 162 غیر مطبوعہ )