خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 178
178 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہیں ”میں قریباً بیس سال کا تھا کہ گورداسپور میں کرم دین بھیں جہلمی جو ( در اصل بھیں ضلع جہلم کا تھا) کے مقدمہ کا حکم سنایا جانا تھا۔میں ایک دن پہلے اپنے گاؤں سے وہاں پہنچ گیا۔وہاں پر ایک کو ٹھی میں حضور علیہ السلام بھی اترے ہوئے تھے ( یعنی وہاں ٹھہرے ہوئے تھے)۔گرمی کا موسم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ادھر کے ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہاں پر میرے والد صاحب میاں جمال الدین صاحب، میاں امام دین صاحب سیکھوانی اور چودھری عبد العزیز صاحب بھی موجود تھے۔میں نے جا کر حضور کو پنکھا جھلنا شروع کر دیا۔حضور نے میری طرف دیکھا اور میرے والد میاں جمال الدین صاحب کی طرف اشارہ کر کے مسکر اکر فرمایا کہ میاں اسماعیل نے بھی آکر ثواب میں سے حصہ لے لیا ہے۔حضور کا معمولی اور ادنیٰ خدمت سے خوش ہو جانا اب بھی مجھے یاد آتا ہے تو طبیعت میں سرور پیدا ہوتا ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت محمد اسماعیل صاحب صفحہ نمبر 150 غیر مطبوعہ ) محمد اکبر صاحب ولد اخوند رحیم بخش صاحب قوم پٹھان اور کزئی سکنہ ڈیرہ غازی خان لکھتے ہیں کہ خاکسار کے والد صاحب کے چا اخوند امیر بخش خان ضلع مظفر گڑھ میں سب انسپکٹر پولیس تھے۔خاکسار کے احمدی ہو جانے کے بعد وہ پنشن پا کر اپنے گھر ڈیرہ غازی خان آگئے۔اُن دنوں جماعت احمد یہ ڈیرہ غازی خان کے سر کردہ مولوی عزیز بخش صاحب بی۔اے تھے جو مولوی محمد علی صاحب ( جو بعد میں پیغامیوں کے امیر بنے تھے) کے بڑے بھائی تھے۔وہ مولوی عزیز بخش صاحب اس وقت ڈیرہ غازی خان میں سرکاری ملازم تھے۔جس محلے میں وہ رہتے تھے وہاں ایک مسجد تھی جو ویران پڑی رہتی تھی۔جماعت احمدیہ نے اُسے مرمت وغیرہ کر کے آباد کیا اور اُس میں نماز پڑھنی شروع کر دی۔ایک غیر احمدی مولوی فضل الحق نامی نے اس محلے میں آکر کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار کی اور محلے کے لوگوں کو اکسایا( اُس وقت بھی وہی کام ہو تا تھا آج بھی وہی کام ہو رہا ہے) کہ احمدیوں کو اس مسجد سے نکالنا چاہئے اور اس مسجد میں چند طلباء جمع کر کے اُن کو پڑھانا شروع کر دیا۔( مدر سے کا یہ جو نظریہ ہے اور مدرسے کے لڑکوں کے ذریعے جلوس نکالنا اور توڑ پھوڑ کرنا، یہ آج بھی اُسی طرح جاری ہے)۔کہتے ہیں کہ طلباء کو جمع کر کے اُن کو پڑھانا شروع کر دیا اور نماز کے وقت وہ اپنی جماعت علیحدہ کرانے لگا اور مسجد میں وعظوں کا بھی سلسلہ شروع کر دیا۔خاکسار کے رشتے کے چا اخوند امیر بخش خان مذکور نے شہر ڈیرہ غازی خان کے سب انسپکٹر پولیس کو اکسایا کہ وہ رپورٹ کرے کہ اس محلہ میں احمدیوں اور غیر احمدیوں میں فساد کا اندیشہ ہے، فریقین کے سر کر دوں سے ضمانت لی جانی چاہئے۔( پہلے تو یہاں مسجد ویران پڑی تھی کوئی آتا نہیں تھا جب احمدیوں نے ٹھیک کر کے، مرمت کر کے آباد کر لی تو سارا فساد شروع ہو گیا)۔کہتے ہیں کہ خاکسار نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور ایک عریضہ لکھا جس میں اپنے رشتے کے دادا صاحب مذکور کی مخالفت کا ذکر کیا اور لکھا کہ اس کو اس قدر عناد ہے کہ اگر اس کا بس چلے تو خاکسار کو قتل کر دے۔اور جماعت کے متعلق پولیس سے جو اس نے رپورٹ کرائی تھی اُس کا بھی ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔حضور نے ازراہ ذرہ نوازی کمال شفقت سے خود اپنے مبارک ہاتھ سے اس عاجز کے عریضے کی پشت پر جواب رقم فرما کر وہ خط خاکسار کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیا۔حضور