خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 176

خطبات مسرور جلد نهم 176 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں مجھے نماز جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔نماز حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پڑھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا کر قبر کے نزدیک بیٹھ گئے۔( وہاں مسجد اقصیٰ میں اُن کے والد کی جو قبر ہے)۔میں بھی موقع پا کر پاس ہی بیٹھ گیا اور نماز میں حضور کی حرکات کو دیکھتا رہا کہ حضور کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں۔حضور نے قیام میں اپنے ہاتھ سینے کے اوپر باندھے مگر انگلیاں کہنی تک نہیں پہنچتی تھیں۔آپ کی گردن ذرا دائیں طرف جھکی رہتی تھی۔نماز کے بعد یہ مسئلہ پیش ہو گیا کہ کیا نماز جمعہ کے ساتھ عصر بھی شامل ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ چنانچہ حضور کے ارشاد کے مطابق اُس دن نماز عصر جمعہ کے ساتھ جمع کر کے ادا کی گئی۔حضور کے آخری ایام میں جماعت بفضلہ تعالیٰ ترقی کر گئی تھی اور چھ سات سو احباب جلسہ سالانہ پر تشریف لاتے تھے۔( اُس وقت کے صحابہ یہ جماعت کی ترقی کی باتیں کر رہے ہیں کہ چھ سات سو احباب جلسے پر تشریف لاتے تھے ) لکھتے ہیں کہ ایک بار ہمیں بتلایا گیا کہ حضور کا منشاء ہے کہ سب دوست بازار میں سے گزریں تاکہ غیر احمدی اور ہند دو غیر ہ خدا کی وحی کو پورا ہوتے ہوئے مشاہدہ کر لیں کہ کس طرح دور دور سے لوگ ہماری طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔( اور آج کل کے احمدیوں کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر کتنی زیادہ حمد کرنی چاہئے۔اس زمانے پر کے بزرگوں کی نسلیں بھی آج دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور خود اُن کی ایک ایک کی نسلیں بھی سینکڑوں میں پہنچی ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ جو نئے شامل ہو رہے ہیں وہ تو ہیں ہی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرمارہے ہیں کہ قادیان کی گلیوں میں پھر و تا کہ اظہار ہو کہ ہم کتنی تعداد میں ہو گئے ہیں، اور آج دنیا جانتی ہے اور اخباروں میں لکھا جاتا ہے ، ٹیلی ویژن پروگرام کئے جاتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کیا چیز ہے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے)۔پھر لکھتے ہیں کہ اس وقت یہ عام دستور تھا کہ مہمان روانگی سے قبل حضور سے رخصت حاصل کر کے واپس جاتے تھے۔چنانچہ ایک بار میں نے بھی شام کے وقت رقعہ بھجوا کر اجازت چاہی۔حضور نے جواباً ارشاد فرمایا کہ اجازت ہے مگر صبح جاتے ہوئے مجھے اطلاع دیں۔حسب الحکم اگلی صبح روانہ ہونے سے قبل اطلاع کی گئی تو حضور بنفس نفیس رخصت کرنے کو تشریف لائے۔اور بھی کئی دوست ہمراہ تھے۔حضور علیہ السلام کچی سڑک کے موڑ تک ہمارے ساتھ تشریف لے گئے۔راستے میں مختلف باتیں ہوتی رہیں۔میں نے دیکھا کہ حضور نہایت اطمینان سے چل رہے تھے اور بظاہر نہایت معمولی چال سے ، مگر وہ دراصل کافی تیز تھی۔اکثر خدام کو کوشش کر کے ساتھ دینا پڑتا تھا۔بچے تو بھاگ کر شامل ہوتے تھے۔پھر لکھتے ہیں کہ غالباً 1900ء میں جبکہ تقسیم بنگال کا بڑا چرچا تھا میں نے اس بات کو مد نظر رکھ کر ایک مضمون حقوق انسانی پر لکھا۔حضور علیہ السلام بغاوت کو بالکل پسند نہ فرماتے تھے اور اپنی جماعت کو بھی وفادار رہنے کی ہدایت فرماتے رہتے تھے۔ان احکامات کی روشنی میں میں نے مضمون لکھ کر حضور کی خدمت میں بھیجا کہ اگر حضور علیہ السلام پسند فرماویں تو اس مضمون کو اخبار میں اشاعت کے لئے بھجوا دیں۔چنانچہ اسے حضور نے البدر میں شائع کر واد یا۔