خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 125

125 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”اس شعر کے معنوں کی عظمت کا اس بات سے پتہ لگتا ہے جس کو لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس شعر کا کہنے والا ایک نابینا شخص تھا۔اگر ایک بینا شخص یہی شعر کہتا تو وہ صرف ایک شاعرانہ مذاق اور ایک ادبی لطیفہ کہلا سکتا تھا مگر اس شعر کے ایک نابینا شخص کے منہ سے نکلنے کی وجہ سے اس کی حقیقت بالکل بدل جاتی ہے۔یعنی حضرت حسان اس شعر میں یہ دعوی کرتے ہیں کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے تو باوجود اس کے کہ میری ظاہری آنکھیں نہیں تھیں، پھر بھی میں بینا ہی تھا۔میری جسمانی آنکھیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مجھے اندھا سمجھتے تھے لیکن میں اپنے آپ کو اندھا نہیں سمجھتا تھا کیونکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مجھے دنیا نظر آرہی تھی اور اب بھی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ میں ویسا ہی ہوں حالانکہ میں ویسا نہیں۔پہلے میں بینا تھا لیکن اب میں اندھا ہو گیا ہوں۔تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے قیمتی وجود تھے مگر اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت آپ بھی آخر ایک دن دنیا سے جدا ہو گئے۔پھر آگے چلتے ہوئے آپ بیان کرتے ہیں کہ۔بہر حال رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے جیسا کہ حسان نے کہا۔مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أحَاذِرُ۔ہر انسان پر یہ بات کھل رہی ہے کہ دنیا میں کوئی وجود بھی ہمیشہ نہیں رہا۔پھر آگے آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو ہمیشہ قائم رہا ہو اور دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہو۔اس صورت میں انسان کی ترقی کا مدار اسی بات پر ہے کہ جانے والوں کے قائمقام پیداہوں۔اگر مرنے والوں کے قائمقام پیدا ہوتے ہیں تو مرنے والوں کا صدمہ آپ ہی آپ مٹ جاتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ اگر ہمارے پیدا کرنے والے کی مرضی ہی یہی ہے تو پھر جزع فزع کرنے یا حد سے زیادہ افسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔یہ عقل کے خلاف اور جنون کی علامت ہو گی۔پھر آگے آپ ایک عباسی بادشاہ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ۔۔۔ایک دفعہ ایک عباسی بادشاہ ایک بڑے عالم سے ملنے گیا۔جا کے دیکھا کہ وہ اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے۔بادشاہ نے کہا اپنا کوئی شاگرد مجھے بھی دکھاؤ۔میں اس کا امتحان لوں۔انہوں نے ایک شاگرد پیش کیا۔بادشاہ نے اس سے بعض سوال پوچھے۔اُس نے نہایت اعلیٰ صورت میں اُن سوالوں کا جواب دیا۔یہ سُن کر بادشاہ نے کہا مَا مَاتَ مَنْ خَلَفَ مثلك۔وہ شخص جس نے تیرے جیسا قائمقام چھوڑا کبھی نہیں مر سکتا کیونکہ اس کی تعلیم کو قائم رکھنے والا تو موجود ہو گا۔انسان کا گوشت پوست کوئی قیمت نہیں رکھتا۔گوشت پوست جیسے ایک چور کا ہے ، ویسے ہی ایک نیک آدمی کا ہے۔ہڈیاں جیسے ایک چور کی ہیں ویسے ہی نیک آدمی کی ہیں۔خون جیسے ایک چور کا ہے ویسے ہی نیک آدمی کا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اُس کے اخلاق بُرے ہیں اور اس کے اخلاق اعلیٰ درجہ کے ہیں“۔( یعنی چور کے اخلاق بُرے ہیں اور نیک آدمی کے اخلاق اعلیٰ درجہ کے ہیں)۔اُس کے اندر روحانیت نہیں اور اس کے اندر اعلیٰ درجہ کی روحانیت پائی جاتی ہے۔پس اگر اس کی وہ روحانیت اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق دوسرے میں باقی رہ جائیں گے تو یہ مرا کس طرح؟ یعنی وہ اعلیٰ اخلاق اگر آئندہ نسلوں میں چل رہے ہیں تو پھر مرا نہیں۔) فرمایا کہ ” پس