خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 124
124 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم لوگوں کی، جو کسی نہ کسی طرح ان کے خلاف رہے ہیں، گرفت ہوئی ہے تو وہ حضرت شاہ صاحب کے پاس اُن کے دروازے پر آتے تھے اور معافیاں مانگتے تھے اور سید داؤد مظفر شاہ صاحب نے ہمیشہ انہیں معاف فرمایا۔یہ بھی نہیں کہا کہ تم نے جو مجھے نقصان پہنچایا ہے اُس کا مداوا کس طرح ہو گا؟ یہ تھے وہ بزرگ جن کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کسی سے بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھتے بلکہ نقصان پہنچانے والے سے بھی جب اُس نے معافی مانگی تو شفقت کا سلوک ہی فرمایا۔یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حقیقی رنگ میں تزکیہ نفس کیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کے نکاح پر جو خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اُس میں سے بعض حصے پڑھنا چاہتا ہوں تا کہ اگلی نسل کو بھی ان باتوں کو سامنے رکھنے کا احساس پیدا ہو۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے چار بچوں کا نکاح پڑھایا جن میں سے ایک آپ کی بیٹی سید داؤد مظفر صاحب کی اہلیہ تھیں۔آپ نے خطبہ اس طرح شروع فرمایا تھا کہ : دنیا میں سب سے قیمتی وجو درسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔زمانے کے گزرنے اور حالات کے بدل جانے کی وجہ سے چیزوں کی وہ اہمیت باقی نہیں رہتی جو اہمیت کہ اُن حالات کی موجودگی اور اُن کے علم کے ساتھ ہوتی ہے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے، اُس وقت دنیا کی جو حالت تھی اُس کا اندازہ آج لوگ نہیں کر سکتے۔اگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ مبعوث نہ فرماتا تو آج دنیا میں دین کے معنی یہ سمجھے جاتے کہ بعض انسانوں کی پوجا کر لی، قبروں کی پوجا کر لی اور بتوں کی پوجا کر لی۔قانون ، اخلاق کو دنیا میں کوئی قیمت حاصل نہ ہوتی۔مذہب کوئی اجتماعی جدوجہد کی چیز نہ ہوتا۔خدا کے ساتھ بنی نوع انسان کا تعلق پید اہونا بالکل ناممکن ہو تا۔بلکہ ایسے تعلق کو بے دینی اور لامذ ہی قرار دیا جاتا ہے۔بنی نوع انسان کے مختلف حصوں کے حقوق کی کوئی حفاظت نہ ہوتی۔عورتیں بدستور غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہو تیں۔بُبت بدستور پوجے جارہے ہوتے۔خدا تعالیٰ بدستور متروک ہو تا۔غلامی بدستور دنیا میں قائم ہوتی۔لین دین کے معاملات میں بدستور ظلم اور تعدی کی حکمرانی ہوتی۔غرض دنیا آج وہ کچھ نہ ہوتی جو آج ہے۔" اس کے بعد کچھ حصہ میں چھوڑتا ہوں۔یہ بیان کرنے کے بعد پھر آگے آپ فرماتے ہیں کہ۔۔۔دنیا میں جو اقوال اور جو باتیں لوگوں نے کہی ہیں، اُن میں سے راستبازی کے اعلیٰ معیار پر پہنچی ہوئی وہ بات ہے جو حستان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہی كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ نے کہا۔كُنتَ السَّوَاء لِنَاظِرِی، تو میری آنکھ کی پتلی تھا، فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ، پس تیری موت کے ساتھ آج میری آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُت۔اب تیرے مرنے کے بعد جو چاہے مرے۔فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ ، مَیں تو تیری موت سے ڈرتا تھا۔کسی اور موت کا مجھ پر اثر نہیں ہو سکتا۔“