خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 93
خطبات مسرور جلد نهم 93 8 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء خطبه جمعه فرموده مورخہ 25 فروری 2011ء بمطابق 25 تبلیغ 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج میں ایک دعا کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کا تعلق تمام عالم اسلام سے ہے۔اس وقت مسلمانوں سے ہمدردی کا تقاضا ہے اور ایک احمدی کو آنحضرت صلی للی کم سے جو محبت ہے اور ہونی چاہئے ، اس کا تقاضا ہے کہ جو بھی اپنے آپ کو آنحضرت صلی علیہ ظلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے کلمہ پڑھتا ہے ، جو بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ، جو بھی مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کے نقصان کا نشانہ بنایا جارہا ہے یا کسی بھی مسلمان ملک میں کسی بھی طرح کی بے چینی اور لاقانونیت ہے اُس کے لئے ایک احمدی جو حقیقی مسلمان ہے، اُسے دعا کرنی چاہئے۔ہم جو اس زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں ہمارا سب سے زیادہ یہ فرض بنتا ہے کہ مسلمانوں کی ہمدردی میں بڑھ کر اظہار کرنے والے ہوں۔جب ہم عہد بیعت میں عام خلق اللہ کے لئے ہمدردی رکھنے کا عہد کرتے ہیں تو مسلمانوں کے لئے تو سب سے بڑھ کر اس جذبے کی ضرورت ہے۔ہمارے پاس دنیاوی حکومت اور وسائل تو نہیں جس سے ہم مسلمانوں کی عملی مدد بھی کر سکیں یا کسی بھی ملک میں اگر ضرورت ہو تو کر سکیں، خاص طور پر بعض ممالک کی موجودہ سیاسی اور ملکی صورتِ حال کے تناظر میں ہمارے پاس یہ وسائل نہیں ہیں کہ ہم جا کر مدد کر سکیں۔ہاں ہم دعا کر سکتے ہیں اور اس طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے۔یا جو احمد کی ان ممالک میں بس رہے ہیں یا اُن ممالک کے باشندے ہیں جن میں آج کل بعض مسائل کھڑے ہوئے ہیں، اُن کو دعا کے علاوہ اگر کسی احمدی کے اربابِ حکومت یا سیاستدانوں سے تعلق ہیں تو انہیں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانی چاہئے کہ اپنے ذاتی مفادات کے بجائے اُن کو قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہئے۔لیکن إِلا مَا شَاءَ اللهُ عموما مسلمان ارباب اختیار اور حکومت جب اقتدار میں آتے ہیں، سیاسی لیڈر جب اقتدار میں آتے ہیں یا کسی بھی طرح اقتدار میں آتے ہیں تو حقوق العباد اور اپنے فرائض بھول جاتے ہیں۔اس کی اصل وجہ تو ظاہر ہے تقویٰ کی کمی ہے۔جس رسول صلی علی یم کی طرف منسوب ہوتے ہیں، جس کتاب قرآن کریم پر ایمان لانے اور پڑھنے کا دعوی کرتے ہیں، اس کے بنیادی حکم کو بھول جاتے ہیں کہ تمہارے