خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 91
91 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پورا ہونے کا تعلق صرف ایک شخص کے پیدا ہونے اور کام کر جانے کے ساتھ نہیں ہے۔اس پیشگوئی کی حقیقت تو تب روشن تر ہو گی جب ہم میں بھی اُس کام کو آگے بڑھانے والے پیدا ہوں گے جس کام کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے اور جس کی تائید اور نصرت کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مصلح موعود عطا فرمایا تھا جس نے دنیا میں تبلیغ اسلام اور اصلاح کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں لگا دیں۔پس آج ہمارا بھی کام ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں مصلح بنے کی کوشش کریں۔اپنے علم سے ، اپنے قول سے ، اپنے عمل سے اسلام کے خوبصورت پیغام کو ہر طرف پھیلا دیں۔اصلاح نفس کی طرف بھی توجہ دیں۔اصلاح اولاد کی طرف بھی توجہ دیں اور اصلاح معاشرہ کی طرف بھی توجہ دیں۔اور اس اصلاح اور پیغام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے بھر پور کوشش کریں جس کا منبع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ملی یک کم کو بنایا تھا۔پس اگر ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں گے تو یوم مصلح موعود کا حق ادا کرنے والے ہوں گے ، ورنہ تو ہماری صرف کھو کھلی تقریریں ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جمعہ کے بعد میں ایک حاضر جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ قامتہ آرچرڈ صاحبہ اہلیہ مکرم مولانا بشیر احمد صاحب آرچرڈ مرحوم کا ہے جو 16 فروری 2011ء کو اکاسی سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔آپ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پوتی، حضرت خلیفہ علیم الدین صاحب کی بیٹی اور حضرت ام ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بھیجی تھیں جو حضرت ام ناصر خلیفہ المسیح الثانی کی پہلی حرم تھیں۔صوم و صلوۃ کی پابند ، بہت سادہ مزاج اور صابر شاکر خاتون تھیں۔یہ غریب پرور تھیں۔مہمان نواز تھیں۔خلافت سے انتہا محبت رکھنے والی تھیں۔مخلص خاتون تھیں۔تعلق باللہ اور توکل الی اللہ آپ کی نمایاں خوبیاں تھیں۔آپ نے اپنے واقف زندگی شوہر کے شانہ بشانہ بھر پور خدمت کی توفیق پائی۔ٹرینیڈاڈ اور گیانا میں لجنہ کی سرگرم رُکن اور لجنہ اماء اللہ سکاٹ لینڈ کی دس سال سے زائد صدر لجنہ رہیں۔لجنہ اور ناصرات کی تعلیم و تربیت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ان کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔چار بچے تو میں جانتا ہوں جماعتی خدمات میں پیش پیش ہیں۔اور کافی حد تک جماعتی خدمت کرنے والے ہیں۔بشیر آرچرڈ صاحب نے انڈیا میں ملٹری ڈیوٹی کے دوران اسلام قبول کیا تھا اور پھر 1945ء میں قادیان میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی اور جماعت میں شامل ہوئے۔1946ء میں زندگی وقف کر کے پہلے انگریز مبلغ بننے کا شرف حاصل کیا تھا۔ان کی اہلیہ کا انتخاب بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بذاتِ خود فرمایا تھا۔ویسٹ انڈیز اور سکاٹ لینڈ ، آکسفورڈ میں بطور مبلغ خدمات سر انجام دیں۔جب آپ احمدی ہوئے ہیں تو اس وقت حضرت مصلح موعود نے فرمایا تھا کہ پہلے تو میر اخیال نہیں تھا کہ انگریزوں میں اسلام کی طرف