خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 72

خطبات مسرور جلد نهم 72 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء ہے۔ایک دن ان کو روپے کی سخت ضرورت تھی۔گھر کا کرایہ ادا کرنا تھا اور روز مرہ کی ضروریات در پیش تھیں۔انہوں نے بہت دعائیں کیں۔آخر کچھ دیر بعد ایک آدمی آیا اور ان کو کام کروانے کے لئے لے گیا اور جو ر قم ملی اس سے ضرورت پوری ہوگئی۔ان کی بڑی خواہش تھی کہ اپنی زندگی میں دوسروں کے کام آئیں۔ان کو خواب آئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی، حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع سے ملاقات ہوئی۔اور کئی بیعتیں بھی انہوں نے کروائیں۔تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔بہت بہادر تھے۔بعد میں آئے لیکن بہتوں سے آگے نکل گئے۔ان کی شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ جب حملہ ہوا تو ور سونو صاحب مشن ہاؤس کے اندر تھے۔مخالفین نے چھریوں اور در انتی اور ڈنڈوں سے ان کو ظالمانہ طور پر مارا۔انکی لاش باہر لائی گئی اور مخالفین باری باری پولیس اور لوگوں کے سامنے لاش کو مارتے رہے۔پولیس تماشہ دیکھتی رہی۔ان کی لاش بھی پہچانی نہیں گئی تھی بلکہ ایک دوسرے خادم نے غلطی سے کسی دوسرے آدمی کو سمجھا لیکن بعد میں جب صحیح طرح دیکھا گیا تو پتا لگا کہ یہ ور سونو صاحب ہیں ، دوسرے خادم نہیں ہیں۔رونی پسارانی صاحب (Roni Pasarani)۔شہادت کے وقت ان کی عمر 35 سال تھی۔11 جنوری 2008ء میں بیعت کی تھی۔ابھی دو سال ہی ہوئے تھے۔شمالی جا کرتا کے رہنے والے تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ 5 اور 6 سال کی دو بچیاں چھوڑی ہیں۔بیعت سے قبل قاتل، ڈاکو اور قمار باز تھے۔در سونو صاحب جو خود بھی شہید ہوئے ہیں ان کی تبلیغ سے احمدیت کے بارہ میں علم ہوا۔ایک رات انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ سے ملا ہوں جس نے پگڑی پہنی ہوئی ہے۔چنانچہ ایک دن اور سو نو صاحب کے گھر ان کو ملنے آئے اور دیوار پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ کر کہنے لگے کہ ان کو خواب میں دیکھا تھا۔اس طرح یہ احمدیت کے مزید قریب ہو گئے اور جماعتی لٹریچر کا مطالعہ کیا۔چنانچہ 2008ء کے سال میں Roni صاحب نے بیعت کی توفیق پائی۔احمدیت میں داخل ہونے کے بعد ان کی کایا پلٹ گئی اور ان کی بیوی بہت حیران رہ گئی کہ RONI صاحب پر روحانی انقلاب برپا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی نہ کوئی نیکی پسند آئی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے اعزاز سے نوازا کہ ساری برائیاں چھوڑ کے پہلے احمدیت کی قبولیت کی توفیق عطا ہوئی اور پھر شہادت کا رتبہ بھی پایا۔پانچوں نمازوں کے علاوہ تہجد بھی ادا کرتے تھے اور جماعتی کتب با قاعدہ پڑھتے تھے۔چنده با قاعدگی سے ادا کرتے تھے۔بہت بہادر تھے۔دو سال کا جتنا بھی عرصہ ان کو ملا احمدیت کی بہت تبلیغ کی اور ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں کئی بیعتیں بھی ہوئیں۔ایک اہم بات ان کے بارے میں یہ بھی ہے کہ یہ کئی دفعہ کہتے تھے کہ "شہید کے طور پر مرنے کی خواہش ہے“۔اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش پوری کر دی۔مکرم رونی پسارانی صاحب کی شہادت بھی مکرم در سونو صاحب کی طرح ہوئی۔مخالفین نے ان کو بھی چھریوں اور در انتیوں اور ڈنڈوں سے مارا۔ان کی لاش باہر لائی گئی اور پھر اسی طرح بے حرمتی کی گئی اور حلیہ بگاڑا گیا۔