خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 73

خطبات مسرور جلد نهم 73 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء تو یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری دی ہے۔جو آسمانِ احمدیت کے روشن ستارے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرتا چلا جائے اور ان کے لواحقین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور خود ان کا حافظ و ناصر ہو۔جماعت انڈونیشیا کے ہر فرد کے ایمان میں پہلے سے بڑھ کر مضبوطی پیدا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے جس کشف کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے نقش قدم پر چلنے والے کچھ اور لوگوں کے ملنے کا ذکر فرمایا تھا، ان میں یہ دور دراز علاقے میں رہنے والے لوگ بھی شامل ہیں جن میں سے بہت سوں نے خلفائے احمدیت میں سے بھی کسی کو نہیں دیکھا لیکن ایمان کی مضبوطی ان کی بے مثال ہے۔خلافت سے وفا کا تعلق قابل تقلید ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کشف کا میں پہلے بھی پچھلے بعض خطبات میں ذکر کر چکا ہوں، دوبارہ بتاتا ہوں۔کشف یوں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ہمارے باغ میں سے ایک بلند شاخ سرو کی کاٹی گئی اور میں نے کہا اس شاخ کو زمین میں دوبارہ نصب کر دو، تاوہ بڑھے اور پھولے“۔آپ فرماتے ہیں ”سو میں نے اس کی یہی تعبیر کی کہ خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کر دے گا“۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20۔صفحہ 76،75) یعنی حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید کے بہت سے قائم مقام پیدا کر دے گا۔پس یہ شہداء تو اپنا مقام پا کر ، قابل تقلید مثالیں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے اور قادیان سے ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کو ثابت کرنے والے بن گئے۔لیکن ہم پیچھے رہنے والوں کو بھی اپنی ایمانی حالتوں کا ہر وقت جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ہمیں ہر شہادت کے بعد یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم ان ظلموں کی وجہ سے صرف یہ نہیں کہ اپنے ایمانوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے بلکہ اس میں بڑھنے کی کوشش کریں گے۔انشاء اللہ۔کسی قسم کی ایسی حرکت نہیں کریں گے جس سے ہماری روایات اور ہمارے صبر پر حرف آتا ہو، جس سے ہماری اپنے ملک سے وفا پر حرف آتا ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا جماعت انڈونیشیا نے بھی انڈونیشیا کی تعمیر میں ایک کردار ادا کیا ہے۔جماعت احمدیہ کا ہر فرد جس ملک میں بھی رہتا ہے اُس کا وفادار ہے اور ہونا چاہئے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ رہے گا۔وفا کا یہ تقاضا ہے کہ ہم یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملکوں کو ظالموں کے پنجہ سے آزاد کرے اور ہم پر کبھی ایسے حاکم مسلّط نہ کرے جو رحم کرنا نہ جانتے ہوں۔ہم دنیاوی تدبیر کے لئے قانونی چارہ جوئی تو کرتے ہیں لیکن قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے۔ہاں اپنے رب کے حضور جھکتے ہیں۔ہمارا زیادہ انحصار ، قانونی چارہ جوئی کرنے سے زیادہ انحصار اپنے رب کے حضور جھکنے میں ہے۔اس سے دعائیں کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مدد پر ہمارا انحصار ہے۔اس کی رحمتوں پر ہمارا انحصار ہے۔اور اب بھی ہم ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ