خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 71
خطبات مسرور جلد نهم 71 بہر حال اب میں ان شہداء کا ذکرِ خیر کرتا ہوں جو شہید ہوئے ہیں۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء اس میں پہلے شہید ہیں مکرم تو با کوس چاند را مبارک صاحب ( Tubaqus Chandra Mubarak)۔یہ پیدائشی احمدی تھے۔ان کی عمر 34 سال تھی۔جماعتی مرکز میں رہتے تھے۔پسماندگان میں ایک بیوی ہے جو 5 ماہ کی حاملہ ہے۔8 سال کی شادی کے بعد پہلا بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ان کی خواہش ہے کہ بچہ وقف کیا جائے گا۔انہوں نے وقف نو کے کاغذات پر کر لئے تھے لیکن ابھی مرکز کو بھجوانے تھے۔انشاء اللہ تعالیٰ آجائیں گے۔بچہ تو وقف نو میں شامل ہو جائے گا۔chandra صاحب جماعت کے سیکرٹری زراعت تھے۔اور جماعت کی زمین جو مرکز میں واقع ہے اس کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد تھی۔بہت ہی مخلص اور جماعتی کاموں میں بہت فعال تھے۔چندہ باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ان کا سارا خاندان ہی بہت مخلص احمدی ہے۔واقعہ کے ایک دن پہلے ان کی بیوی نے ان سے کہا کہ جماعت Cikesik( جہاں یہ حملہ ہوا ہے ) وہاں مت جائیں۔میں پانچ ماہ کی حاملہ ہوں۔آپ کو میر اخیال کرنا چاہئے۔یا میر اخیال کریں یا جماعت کا خیال۔انہوں نے کہا کہ اس وقت میں جماعت کو تر جیح دیتا ہوں۔صرف ڈرائیور کے طور پر وہاں جانا تھا اور ڈیوٹی والے خدام کو وہاں پہنچانا تھا۔اور ابھی یہ وہیں تھے کہ حملہ ہو گیا۔مرحوم اپنے کارکنان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا کرتے تھے۔ہر نماز مسجد میں باجماعت ادا کیا کرتے تھے اور اپنی بیوی کو بھی یہی تاکید کرتے کہ وقت پر نماز ادا ہونی چاہئے۔ایک بہادر خادم تھے۔تو با کوس چاند را مبارک صاحب (جن کا ذکر ہو رہا ہے ) مشن ہاؤس کے اندر تھے اور سب خدام سے آگے تھے۔مخالفین نے ان کے جسم پر چھریوں کے بہت سے وار کئے اور ظالمانہ طور پر مارا۔پھر مخالفین نے ان کو لٹکا دیا اور مارتے رہے۔بعد میں نیچے اتارا اور ان کی لاش کو ڈنڈوں اور پتھروں سے مارا اور لاش کا حلیہ بگاڑ دیا۔پہلے ان کی لاش پہچانی نہیں گئی۔بعد میں Chandra صاحب کے چھوٹے بھائی نے آکر اس لاش کو جسم کے ایک نشان سے پہچانا کہ یہ ان کے بھائی Chandra صاحب کی لاش ہے۔دوسرے شہید ہیں احمد در سونو صاحب (Warsono)۔ان کا تعلق شمالی جاکر تا سے تھا۔ان کی عمر 38 سال تھی۔2002ء میں بیعت کی توفیق پائی۔اہلیہ کے علاوہ چار بچے ہیں۔ان کو احمدیت کا تعارف 2000ء میں ہوا جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع انڈونیشیا تشریف لے گئے تھے۔ایک احمدی دوست نے ان کو لٹریچر پڑھنے کے لئے دیا۔انہوں نے دلچسپی سے پڑھا اور دو سال کی تحقیق کے بعد بیعت کا فیصلہ کیا۔بعد میں ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کی اور بہت جلد احمدیت کی سچائی پر مضبوطی سے قائم ہو گئے۔احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے وہ اپنے والدین سے اچھا سلوک نہیں کرتے تھے۔لیکن جب وہ احمدیت میں داخل ہوئے تو ان کے والدین بہت خوش ہوئے کیونکہ ان کے اخلاق اچھے ہو گئے اور وہ والدین کا ادب کرتے اور نرمی سے پیش آتے۔روحانیت میں بہت ترقی کی۔کہتے تھے کہ میں تبلیغ کرتا ہوں تو آسمانی مدد محسوس کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ میری ضرورتیں پوری کرتا