خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 66

خطبات مسرور جلد نهم 66 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء بیان لکھوالیا کہ میں احمدیت چھوڑتا ہوں اور اس پر ایک اشتہار شائع کر وا دیا اور بڑا شور پڑا۔اس کے بعد مولوی صاحب کی مخالفت اور بھی زیادہ شدت سے شروع ہو گئی۔لیکن بہر حال حاجی محمود صاحب بعد میں سنبھل گئے اور علماء کی چالوں سے محفوظ رہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا۔اور جب علماء کو یہ پتہ لگا کہ ہمارا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے تو نہ طور پر حضرت مولوی رحمت علی صاحب کو ملک بدر کرنے کے لئے کوششیں شروع کر دیں اور حکومت کے افراد اور نمائندوں تک گئے۔لیکن حکام نے انہیں کہہ دیا کہ ہم مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔بہر حال یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔دسمبر 1927ء میں پاڈانگ میں غیر احمدی علماء کے ساتھ ایک مباحثہ ہوا جس میں بڑے علماء اور مشائخ اور اخباروں کے ایڈیٹر اور حکومتی عہدیدار موجود تھے۔اس مباحثے میں جماعت احمدیہ کے مبلغ کو ان میں برتری حاصل رہی اور جیسا کہ مقدر تھا یہ ہونا ہی تھا۔مخالف علماء کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اس کے نتیجے میں احمدیت کی تبلیغ کی راہ ہموار ہو گئی۔اس دوران میں انڈو نیشیا میں تیسری جماعت ڈو کو (Doko) کے مقام پر قائم ہوئی۔حضرت مولوی رحمت علی صاحب اکتوبر 1929ء میں واپس قادیان تشریف لائے اور 1930ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے دوبارہ ان کو سماٹر ا جانے کا ارشاد فرمایا۔حضرت مولوی صاحب نے حضور کی خدمت میں اپنی معاونت کی غرض سے ایک مزید مبلغ بھجوانے کی درخواست کی۔اس درخواست کو حضور نے قبول فرماتے ہوئے محترم مولوی محمد صادق صاحب کو آپ کے ساتھ انڈو نیشیا جانے کا ارشاد فرمایا اور پھر یہ دونوں انڈو نیشیا گئے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 537 تا 539 مطبوعہ ربوہ) انڈونیشیا میں جیسے جیسے احمدیت کو فروغ حاصل ہوتا جارہا تھا احمدیت کی مخالفت میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ابتداء تین جماعتوں کو ابتلا کا سامنا کرنا پڑا۔تاپک تو آن کی جماعت پر وہاں کے راجہ کی طرف سے ابتلا وارد کیا گیا اور احمدیوں کو با قاعدہ نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔(وہاں کا جو مقامی راجہ تھا اُس نے روک دیا) جمعہ کی نماز کی ممانعت کر دی گئی اور تبلیغ عام بند کر دی گئی۔یہ تمام سختیاں اُن پر عائد کر دی گئیں۔”لہو سو کن “ کی جماعت کو بھی وہاں کے راجہ نے ظلم کا تختہ مشق بنایا اور سب کو مجبور کیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذ باللہ کذاب اور دجال کہیں ورنہ انہیں اس جگہ سے نکال دیا جائے گا۔ایک احمدی مکرم گرو علی صاحب کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا گیا۔تنکو عبد الجلیل اور ان کے چھوٹے بھائی کو احمدی ہونے کی بنا پر گاؤں سے نکال دیا گیا۔بہر حال مولوی ابو بکر ایوب صاحب بھی اس دوران میں فارغ ہو کے قادیان سے وہاں آگئے تھے۔تو آپ کسارن“ کے علاقے میں تبلیغ کر رہے تھے۔آپ پر تبلیغ کی پابندی عائد کر دی گئی۔ایک روز رات بارہ بجے کے بعد شہر کا ایک سر کردہ پولیس افسر پولیس کے ہمراہ وہاں کے سلطان کے حکم سے آپ کو گرفتار کرنے کے لئے آیا۔اُس نے اس وقت کے حاضر افراد کے نام نوٹ کر لئے اور کہا کہ آپ اور آپ کے ساتھی صبح چیف ڈسٹرکٹ صاحب کے پاس دفتر میں حاضر ہو جائیں۔صبح جب محترم مولوی صاحب اور آپ کے ساتھی دفتر مذکور پہنچے تو آپ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔چیف صاحب سوالات کر کے گرفت کرنا چاہتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے مولوی