خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 62
خطبات مسرور جلد نهم 62 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء کسی بھی کونے میں بس رہے ہو، تم احمدی پر جو بھی ظلم روا رکھنا چاہتے ہور کچھ لو لیکن ہمیں ہمارے ایمانوں سے سر مو ہٹا نہیں سکتے۔ہر جگہ کے احمدی سے تم یہی جواب سنو گے کہ فَاقْضِ مَا اَنْتَ قاض تم جو کر سکتے ہو کر لو۔ہمیں ہمارے ایمانوں سے نہیں پھیر سکتے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔انڈونیشیا کے احمدیوں نے بھی دشمن کو یہی جواب دیا۔وقتا فوقتا ان لوگوں کو پہلے دھمکیاں مل رہی تھیں لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال ان لوگوں نے ان دھمکیوں کی ذراسی بھی پروا نہیں کی۔یہ چھوٹی سی جماعت ہے جہاں یہ واقعہ ہوا ہے۔صرف تھیں افراد پر مشتمل گل جماعت ہے جس میں عورتیں بچے شامل ہیں۔سات فیملیز ہیں۔صرف سات خاندان ہیں۔لیکن یہ سب اس بات پر دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر راضی نہ تھے کہ جماعت سے علیحدگی کا اعلان کریں اور ان نام نہاد ملاؤں کے پیچھے چل پڑیں۔اس وقت وہاں ملاں کا یا جو ان کے چیلے تھے اُن کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اپنے معلم کو یہاں سے نکالو جبکہ معلم کوئی غیر نہیں تھا۔کوئی باہر سے آیا ہوا نہیں تھا۔بلکہ اُسی قصبے کا رہنے والا تھا۔وہیں کا باشندہ تھا۔بہر حال جب مخالفت حد سے زیادہ بڑھنی شروع ہوئی تو ساتھ کی جماعتوں کے ہیں خدام مختلف وقتوں میں ڈیوٹی کے لئے وہاں آیا کرتے تھے۔وہ وہاں مشن ہاؤس میں آکر بیٹھتے تھے کہ یہ لوگ کہیں مشن ہاؤس پر قبضہ نہ کر لیں۔کیونکہ عموماً پولیس کی پشت پناہی ان کو حاصل ہے اور ہمارے ساتھ ان لوگوں کا یہی طریق رہا ہے کہ جب ہم انتظامیہ کے کہنے پر یالوگوں کی وجہ سے اپنا کوئی مکان یا مشن ہاؤس یا مسجد خالی کرتے ہیں تو انتظامیہ اس پر تالے لگا دیتی ہے یا لوگوں کو قبضہ کروا دیتی ہے یا خود بھی اگر یہ قبضہ کر لیں تو انتظامیہ اُسے خالی نہیں کرواتی۔یہ گزشتہ کئی سال سے تجربہ ہو رہا تھا۔اس لئے اب اُس کے بعد سے یہی فیصلہ ہوا ہے کہ جو بھی گزر جائے ہم نے کبھی بھی جگہ خالی نہیں کرنی۔ہمارے لوگ مشن ہاؤس میں تھے اور اندر بیٹھے تھے۔ان ظالموں نے جب حملہ کیا ہے تو اندر جاکر در انتیوں اور ٹوکوں اور چاقوؤں اور ڈنڈوں سے احمدیوں کو زخمی کر کے کھینچتے ہوئے باہر لے آئے جبکہ پولیس بھی باہر کھڑی تھی اور یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔سب نے یہ خبر سن لی ہے کہ تین احمدیوں کو شہید کیا اور پانچ کو زخمی کیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے افرادِ جماعت کی ایمانی حالت اُسی طرح مضبوط ہے بلکہ زیادہ مضبوط ہے۔یہ سب کچھ انتہائی ظالمانہ طریق پر کیا گیا۔زمانہ جاہلیت کے کفار کی مثال قائم کر دی گئی۔افسوس کہ ان نام نہاد ظالم مسلمانوں نے ہمیشہ کی طرح اُس رَحْمَةٌ لِلعلمین کے نام پر یہ کیا ہے جو رحمتیں بانٹنے آیا تھا۔جس عظیم نبی نے جنگ میں بھی بعض اصول مقرر فرمائے تھے کہ ان کی پابندی کی جائے۔جس نے جنگ کے جرم میں ملوث مقتولوں کے بارہ میں بھی یہ ہدایت دی تھی کہ ان کا مثلہ نہیں کرنا جو عرب میں عام رواج تھا۔کیونکہ یہ کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے کہ لاشوں کی بے حرمتی کی جائے۔مذہب تو ایک طرف، انسانیت کے ادنیٰ اصولوں کے بھی یہ خلاف ہے۔لیکن ہمارے احمدیوں پر حملہ کرنے والے ان ظالموں نے ایسے ظالمانہ طور پر لاشوں کی بے حرمتی کی ہے کہ لاشیں پہچانی نہیں جاتی تھیں۔پہلے جو رپورٹ آئی تھی اس میں غلطی سے کچھ دوسرے لوگوں کا نام دے دیا گیا تھا۔پھر جب دوبارہ پہچان کی گئی تو پتہ لگا کہ نہیں، یہ تو اور لوگ ہیں۔اُن کے عزیزوں نے