خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 617
617 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 و سمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کی بچے کو خود پڑھنے کا شوق بھی ہو گا۔اور جس زمانے اور دور سے ہم گزر رہے ہیں جہاں بچوں کے لئے متفرق دلچسپیاں ہیں۔ٹی وی ہے ، انٹر نیٹ ہے ، دوسری کتابیں ہیں۔ان دلچسپیوں میں بچے کا خود صبح با قاعدہ تلاوت کرنا اور پڑھنا اُسے قرآن کریم کی اہمیت کا احساس دلائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس زمانے میں جب مختلف قسم کی دلچسپیوں کے سامان ہیں، مختلف قسم کی دلچسپی کی کتابیں موجود ہیں، مختلف قسم کے علوم ظاہر ہو رہے ہیں، اس دور میں قرآنِ کریم پڑھنے کی اہمیت اور زیادہ ہو جاتی ہے اور ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔پس اس کو پڑھنے کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بچوں میں قرآن کریم کی محبت اُس وقت پیدا ہو گی جب والدین قرآنِ کریم کی تلاوت اور اُس پر غور اور تدبر کی عادت بھی ڈالنے والے ہوں گے۔اس کے پڑھنے کی طرف زیادہ توجہ دیں گے۔جب ہر گھر سے صبح کی نماز کے بعد یا آجکل کیونکہ سردیوں میں نماز لیٹ ہوتی ہے ، اگر کسی نے کام پر جلدی نکلنا ہے تو نماز سے پہلے تلاوت با قاعدہ ہو گی تو وہ گھر قرآن کریم کی وجہ سے برکتوں سے بھر جائے گا اور بچوں کو بھی اس طرف توجہ رہے گی۔بچے بھی ان نیکیوں پر چلنے والے ہوں گے جو ایک مؤمن میں ہونی چاہئیں۔اور جوں جوں بڑے ہوتے جائیں گے قرآنِ کریم کی عظمت اور محبت بھی دلوں میں بڑھتی جائے گی۔اور پھر ہم میں سے ہر ایک مشاہدہ کرے گا کہ اگر ہم غور کرتے ہوئے با قاعدہ قرآنِ کریم پڑھ رہے ہوں گے تو جہاں گھروں میں میاں بیوی میں خدا تعالیٰ کی خاطر محبت اور پیار کے نظارے نظر آرہے ہوں گے ، وہاں بچے بھی جماعت کا ایک مفید وجود بن رہے ہوں گے۔اُن کی تربیت بھی اعلیٰ رنگ میں ہو رہی ہو گی۔اور یہی چیز ہے جو ایک احمدی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لئے پوری توجہ اور کوشش سے کرنی چاہئے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو ہم میں پید ا کرنے کے لئے بہت کوشش فرمائی ہے اور آپ کے آنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ قرآن کریم کو دنیا میں ہر چیز سے اعلیٰ مقام دینے والے بنیں اور اسے وہ عزت دیں جس کے مقابلے میں کوئی اور چیز نہ ہو۔قرآن کریم کی عزت کو ہم صرف اس حد تک ہی نہ رکھیں جو عموماً غیر از جماعت کرتے ہیں کہ خوبصورت کپڑوں میں رکھ لیا، خوبصورت شیلف میں رکھ لیا، خوبصورت ڈبوں میں رکھ لیا۔قرآنِ کریم کی اصل عزت یہ ہے اور اس کی محبت یہ ہے کہ اس کے احکامات پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے، اس کے اوامر اور نواہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔جن چیزوں سے خدا تعالیٰ نے روکا ہے اُن سے انسان رُک جائے اور جن کے کرنے کا حکم ہے اُن کو انجام دینے کے لئے اپنی تمام تر قوتوں اور استعدادوں کو استعمال کرے۔اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کی تلاوت کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیشمار جگہ اپنی کتب میں ، اپنی مجالس میں، ملفوظات میں قرآنِ کریم کی اہمیت بیان فرمائی ہے اور ان باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ان توقعات کا ذکر فرمایا ہے جو ایک احمدی سے اور ایک بیعت کنندہ سے آپ کو ہیں۔پس ہمیں اپنے گھروں کو تلاوتِ قرآنِ کریم سے بھرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اس بات کی