خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 503
خطبات مسرور جلد نهم 503 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2011ء میں پہلے دن سے ہی جماعت کو اپنی حالتوں کی درستی کی طرف اور دعاؤں کی طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ بہت توجہ کریں۔پاکستان میں جماعت کو دعاؤں کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔لاشعوری طور پر میرا ہر مضمون اسی طرف پھر جاتا ہے۔پس یہ تو یقینی بات ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کا غلبے کا وعدہ ہے وہ تو پورا ہونا ہی ہے اور نہ صرف پورا ہونا ہے بلکہ ہو رہا ہے۔اس وعدہ کے پورا ہونے کا نظارہ ہم پاکستان میں بھی دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے باوجود نامساعد حالات کے وہاں جماعت ترقی کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔دشمن کا ہر حربہ اور ہر حملہ جس شدت اور جس نیت سے کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے دشمن کو وہ نتائج حاصل نہیں کرنے دیتا۔دشمن کے بڑے خطرناک عزائم ہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی حفاظت فرماتا چلا جارہا ہے لیکن یہ ابتلا ہمیں اس طرف شدت سے راغب کرنے والے ہونے چاہئیں کہ ہم پہلے سے بڑھ کر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ہمارا ہر بچہ ، جوان، بوڑھا، مرد اور عورت اپنے نفسانی جذبات و خواہشات کو پرے پھینک کر اللہ تعالیٰ کے حکموں کے آگے مکمل طور پر گردن جھکا کر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی مکمل کوشش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جائے تو پھر یہ ظالم اور ظلم ہماری آنکھوں کے آگے انشاء اللہ تعالی فنا ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے تو انشاء اللہ تعالیٰ غالب آنا ہے لیکن اس تقدیر کے غالب آنے میں جلدی یا دیر بعض دفعہ بندوں کے اعمال اور دعاؤں پر بھی منحصر ہوتی ہے۔بعض دفعہ ایک نسل کو بھی انتظار کرنا پڑتا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ یہ اشارہ کرے کہ میں نے تو اس کام کو کرنا ہی ہے لیکن اگر تمہیں جلدی ہے تو پھر اپنے اندر اس فیصلہ کے ، جو میں نے مقدر کیا ہوا ہے، جلد پورا کرنے کے لئے ایک انقلاب پیدا کرو، اپنی طبیعتوں میں ایک انقلاب پیدا کر و تو ہمیں خدا تعالیٰ کے پیغام کو سمجھنا چاہئے۔پس آئیں اور آج اپنی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کے عرش کے پائے ہلانے کی کوشش کریں۔ہم میں سے ہر ایک خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جو یقینا ہمارے لئے جوش میں ہے پہلے سے بڑھ کر جوش میں آئے اور ہمیں ان ظالموں سے نجات دلوائے۔اگر سو فیصد میں انقلاب پیدا نہیں ہو تا تو ہمارے میں سے اکثریت میں اگر یہ انقلاب پیدا ہو جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ ہم پہلے سے بڑھ کر فتوحات کے نظارے دیکھیں گے۔اللہ کرے کہ ہم دعا کی روح کو سمجھنے والے اور اس کے آداب کو بھی مد نظر رکھنے والے ہوں تا کہ خدا تعالیٰ کے فضل کو جلد سے جلد جذب کرنے والے بن سکیں۔کبھی یہ احساس ہمارے دل میں نہ آئے کہ ہم اتنی دعائیں کر رہے ہیں پھر بھی خدا تعالیٰ قبول نہیں کر رہا یا وہ نظارے نہیں دکھا رہا۔اوّل تو اللہ تعالیٰ دعائیں قبول فرما رہا ہے۔بلکہ ہماری معمولی دعاؤں کو ، ہماری معمولی کوششوں کو اپنی رحمت خاص سے اتنے پھل لگا رہا ہے کہ اُنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بڑھتا ہے۔ایک تو جیسا کہ میں نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح دشمن کے منصوبے ہیں اور اُن میں روز بروز جس طرح تیزی آرہی ہے اس کے مقابلے میں ان کی کامیابی کچھ بھی