خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 481

481 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جیسا عظیم انسان اور آنحضرت کے عاشق صادق کو ہماری اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائی ہے کہ ہم اس کی بیعت کر لیں۔لیکن کیا اس عظیم انسان کی بیعت کر لینا ہی کافی ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ بھی پہلے زمانے کی طرح بہتر اور مبارک ہے تو آپ کی اس سے مراد یہ تھی کہ مسیح محمدی کے ماننے والے اس عظیم انقلاب کے لانے کا باعث بنیں گے جس کے لانے کے لئے مسیح موعود کو بھیجا گیا ہے۔وہ اس تغیر کو زمانے میں لانے میں حصہ دار بنیں گے جس تغیر کے لانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔وہ جنت دنیا میں پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں گے جو آئندہ کی زندگی کی جنت کا وارث بنانے میں بھی مدد گار ہو گی۔پس آج ہر احمدی کا کام ہے کہ وہ انقلاب لانے میں اپنا کر دار ادا کرے۔زمانے میں ایک عظیم تغیر لانے میں اپنا کر دار ادا کرے۔دنیا کو جنت بنانے میں اپنا کر دار ادا کرے۔اور اس کے لئے ہمیں قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہوئے اُس کے احکامات پر غور کرنا ہو گا اور جب ہم اپنی زندگیوں کو اُس طرح ڈھال لیں گے جس سے انقلاب پیدا ہوتے ہیں، جس سے تغیر پید اہوتے ہیں، جس سے دنیا بھی جنت بن جاتی ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ دنیا ہمارے پیچھے آئے گی اور ضرور آئے گی۔آج ہم کمزور ہیں ، بظاہر دنیا کی نظر میں ہماری کوئی حیثیت نہیں، ہر جگہ ہم ظلموں کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن جب ہم اپنی بیعت کی حقیقت کو جانتے ہوئے ایک نئے عزم کے ساتھ اُٹھیں گے تو اگر ان لوگوں کو توفیق نہ ملی تو ان کی نسلیں ضرور ایک دن مسیح محمدی کے غلاموں میں شامل ہونا اپنا فخر سمجھیں گی۔پس اپنے قول و فعل کو اپنی بیعت کا حق دار بنانے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔ان مغربی ممالک میں دنیا کی رنگینیوں میں غائب نہ ہو جائیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اجتماعات اور جلسے آپ کی زندگیوں پر اثر ڈالتے ہیں تو اس اثر کو عارضی نہ رہنے دیں بلکہ انہیں زندگیوں کا حصہ بنائیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں، اپنے نفس کی قربانیاں بھی کرتے ہیں اور اس کی روح کو سمجھ کر کرتے ہیں۔یہ لوگ نوجوانوں میں بھی ہیں، مردوں میں بھی ہیں، عورتوں میں بھی ہیں۔پہلے مجھے واقفین نو نو جوانوں کی یہ فکر ہوتی تھی کہ اُن کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وقف کو کیا چیز ہے ؟ جو ان ہو گئے ہیں، سمجھتے تھے کہ جو واقفین کو جامعہ میں چلے گئے وہی جماعت کا کام کرنے والے ہیں باقی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے کام شروع کر دیئے اور مرکز کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ کہاں گیا واقف کو؟ سمجھتے تھے کہ وقف نو کا نام ہمیں مل گیا بس یہ کافی ہے۔لیکن اب یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے جو سٹوڈنٹ ہیں اُن سے بھی پوچھو تو یہی بتاتے ہیں کہ ہم یہ تعلیم آپ سے پوچھ کر ، مرکز سے پوچھ کر حاصل کر رہے ہیں اور ختم کرنے کے بعد مکمل طور پر جماعت کی خدمت کے لئے حاضر ہو جائیں گے انشاء اللہ۔پس یہ روح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔اس ماحول میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو غلط کاموں سے ، غلط باتوں سے پاک رکھنے کی کوشش کریں اور یہ لوگ پاک رکھنے کی کوشش کرتے بھی ہیں۔مالی قربانی کا سوال ہے تو کل ہی ایک خاتون ایک ڈھیر سونے کے زیورات کا مجھے دے گئیں کہ میں نے جماعت کو دینے کا عہد کیا ہوا تھا اب یہ مجھ پر حرام ہے۔باوجود میرے کہنے کے کہ اپنے لئے کچھ رکھ لو یہی کہا کہ جو