خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 451
451 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بجائے سچائی کی قدریں پیدا کرنے کے اُسے بعض گھر زائل کر رہے ہوتے ہیں۔اپنے بچوں کو برباد کر رہے ہوتے ہیں۔پھر باقی معاشرے سے تعلقات کا بھی یہی حال ہے۔اسی طرح کاروباری جھوٹ ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا قسمتی سے مسلمان ممالک میں یہ زیادہ عام بیماری ہے۔سچائی اور صداقت کا جتنا شور مچایا جاتا ہے اتنا ہی عملاً اس کی نفی کی جاتی ہے۔اسی طرح ملکی سیاست ہے اس میں عموماً جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن مسلمان کہلانے والے ممالک جن کو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچائی پر قائم رہنے اور جھوٹ سے نفرت کرنے کی تلقین کی ہے، بڑی شدت سے ہدایت دی ہے وہ اُتنا ہی جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔گزشتہ دنوں پاکستان میں کراچی اور سندھ کے حالات پر جب ایک سیاستدان نے اپنے لوگوں سے ناراض ہو کر اندر کا تمام کچا چٹھا بیان کیا تو بعض سیاستدانوں اور تبصرہ نگاروں نے یہ تبصرہ کیا کہ سچائی کا اظہار سیاستدان کا کام نہیں ہے۔سیاستدان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ کبھی سچ بولے۔یہ اگر سچ بول رہا ہے تو یہ سیاستدان نہیں ہے بلکہ پاگل ہو گیا ہے۔اس کا انکار نہیں کیا کہ جو باتیں ہیں وہ غلط ہیں، تبصرہ ہو رہا ہے تو اس بات پر کہ یہ سچ بول رہا ہے اس لئے پاگل ہے۔تبصرے والے کہتے ہیں کہ اس نے اپنی سیاسی زندگی اور دنیاوی منفعت کو داؤ پر لگا دیا ہے ، جو صرف ایک پاگل ہی کر سکتا ہے۔گویا ان کے نزدیک یہ سچائی اور صداقت زوال کا ذریعہ بنے گی۔یہ تو ان کا حال ہے۔پس ان کی نظر میں سیاست اور حکومت خدا کے قول پر حاوی ہے۔اللہ اور اُس کا رسول کہتے ہیں جھوٹ نہ بولو۔لیکن یہ کہتے ہیں کہ سیاست اور حکومت کے لئے جھوٹ بولو، اگر نہیں بولو گے تو تم غلط کرو گے۔اس کے باوجود یہ لوگ پکے مسلمان ہیں اور احمدی غیر مسلم ہیں جو سچائی کی خاطر اپنے کاروباروں ، منفعتوں اور جانوں کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں اس لئے کہ وہ ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں جس نے کہا ہے کہ جھوٹ شرک ہے اور اُس نبی کو ماننے والے ہیں جس پر آخری شرعی کتاب قرآنِ کریم نازل ہوئی اور جن کا فرمان ہے کہ تمام برائیوں کی اور گناہوں کی جڑ جھوٹ ہے۔پھر بین الا قوامی سیاست ہے تو اس میں مسلمان حکومتیں ہوں یا مغربی حکومتیں ہوں اِن سب کا ایک حال ہے۔ان ملکوں کو جو آپس کے تعلقات میں عموماً سچائی کا اظہار کرتے ہیں۔کچھ نہ کچھ ان میں سیج ہے۔جب دوسرے ممالک کا سوال پیدا ہو ، مسلمان ممالک کا سوال پیدا ہو، دوسری حکومتوں کا سوال پیدا ہو تو ان کی سچائی کے نظریے بالکل بدل جاتے ہیں۔ان کا حال تو پہلے عراق پر جو حملے انہوں نے کئے اُسی سے پتہ چل گیا۔جب صدام حسین کو اُتارنے کے لئے عراق کو تباہ و برباد کر دیا، اس کے وسائل پر قبضہ کر لیا تو پھر کہہ دیا کہ ہمیں غلطی لگی تھی۔جتنا ظلم اور خوفناک منصوبہ بندی اور خطر ناک ہتھیاروں سے دنیا کو تباہ کرنے اور ہمسایوں کو زیر نگیں کرنے کی ہمیں اطلاعیں ملی تھیں کہ صدام حسین کرنا چاہتا ہے، اتنا کچھ تو وہاں سے نہیں نکلا۔پھر لیبیا کو نشانہ بنایا گیا تو اب کہتے ہیں کہ اصل میں غلط اطلاعیں تھیں۔اتنا ظلم وہاں عوام پر نہیں ہو رہا تھا۔تو یہ سب باتیں مغربی پر لیس ہی اب دے رہا ہے۔انہی کے تبصرے آرہے ہیں۔پس پہلے جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے حملے کئے جاتے ہیں۔پھر سچا بننے کے لئے اپنے میڈیا