خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد نهم 450 35 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 2011ء بمطابق 09 تبوک 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) شخص تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: سچائی ایک ایسا وصف ہے کہ جس کے اپنانے کے بارے میں صرف مذہب ہی نے نہیں کہا بلکہ ہر جس کا کوئی مذہب ہے یا نہیں اس اعلیٰ خُلق کے اپنانے کا پُر زور اظہار کرتا ہے۔لیکن اگر ہم جائزہ لیں تو اس اظہار کے باوجود سچائی کے اظہار کا حق نہیں ادا کیا جاتا۔جس کو جب موقع ملتا ہے اپنے مفاد کے حصول کے لئے جھوٹ کا سہارالیتا ہے۔انسان کی ذاتی زندگی سے لے کر بین الا قوامی تعلقات تک میں سچائی کا خُلق اپنانے کا جس شدت سے اظہار کیا جاتا ہے اُسی شدت سے وقت آنے پر اُس کی نفی کی جاتی ہے۔اپنے مفاد حاصل کرنے کے لئے روز مرہ کے معمولی معاملات میں بھی جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے اور وہ حقیقی سچائی جسے قولِ سدید کہتے ہیں اُس کی نفی ہو رہی ہوتی ، ہے۔کاروباری معاملات ہیں تو دنیا کا ایک بہت بڑا طبقہ ان میں جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔معاشرتی تعلقات ہیں تو ان میں بسا اوقات جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ملکی سیاست ہے تو اس میں سچ کا خون کیا جاتا ہے۔بین الا قوامی سیاست اور تعلقات ہیں تو اس کی بنیاد بھی جھوٹ پر ہے۔اکثر دفعہ تو یہی دیکھنے میں آیا ہے۔حتی کہ مذہب جو خالصتنا سچائی کو لانے والا اور پھیلانے والا ہے اس میں بھی مفاد پرستوں نے جھوٹ کو شامل کر کے سچ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں یا کو شش کرتے ہیں کہ سچ کو اس طرح چھپادیں کہ سچ کا نشان نظر نہ آئے۔بعض لوگ تو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اتنا جھوٹ بولو کہ بیچ جو ہے وہ جھوٹ بن جائے اور جھوٹ جو ہے وہ سچ بن جائے۔یہ بے خوفی اور بیا کی سچائی کو ہر سطح پر پامال کرنے کی اس لئے پیدا ہو گئی ہے کہ خدا تعالیٰ پر یقین نہیں رہا۔اگر خدا تعالیٰ پر یقین ہو تو ہر سطح پر جھوٹ کا سہارا اس طرح نہ لیا جائے جس طرح اس زمانے میں لیا جاتا ہے یا اکثر لیا جاتا ہے۔ذاتی زندگی میں گھروں میں ناچاقیاں اس لئے بڑھتی ہیں کہ سچائی سے کام نہیں لیا جاتا اور اس سچائی سے کام نہ لینے کی وجہ سے میاں بیوی پر اعتماد نہیں کرتا اور بیوی میاں پر اعتماد نہیں کرتی اور جب بچے دیکھتے ہیں کہ ماں باپ بہت سے موقعوں پر جھوٹ بول رہے ہیں تو بچوں میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت ہو جاتی ہے۔نئی نسل جب بعض غلط کاموں میں پڑ جاتی ہے وہ اس لئے کہ گھروں کے جھوٹ انہیں برائیوں پر اُبھارتے ہیں۔یوں لاشعوری طور پر یا شعوری طور پر اگلی نسلوں میں