خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 386
خطبات مسرور جلد نهم 386 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء شکوہ کی کچھ نہیں جایہ گھر ہی بے بقا ہے“ ( محمود کی آمین ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 323) پس وہ امام الزمان جو اس زمانہ میں بندے کو خدا سے قریب کرنے آئے تھے وہ اپنی اولاد کی خوشی کے موقعہ پر بھی اپنی اولاد کو بھی، اپنی نسل کو بھی اور اپنی جماعت کو بھی اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ ہماری حقیقی خوشی اپنے خدا سے تعلق پیدا کرنے اور اُس کی رضا کے حصول میں ہے۔دنیا خوشیاں مناتی ہے تو عجیب و غریب قسم کی بدعات کو فروغ دیتی ہے ، لغویات میں پڑتی ہے، دنیاوی دکھاووں کے لئے خوشیاں منائی جارہی ہوتی ہیں لیکن آپ نے یہ سبق دیا کہ ہماری تمام تر توجہات کیونکہ خدا کی طرف ہونی چاہئیں اس لئے ہمارے ہر عمل یا اعمال خدا کی رضا کے حصول کے لئے ہوں۔اور جب اس چیز کا ادراک پیدا ہو جائے گا تو ہماری غمی اور خوشی کے دھارے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی طرف بہہ رہے ہوں گے۔آپ علیہ السلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کے لئے آئے تھے ، آپ کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی کی بات ہو سکتی تھی کہ آپ کی اولاد اللہ تعالیٰ سے لو لگانے والی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں ڈوبنے والی ہو اور اللہ تعالیٰ کی آخر ی شرعی کتاب جو قرآنِ کریم کی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتری اُسے پڑھنے والے اور اُس پر عمل کرنے والے ہوں۔پس جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآنِ کریم کا پہلا دور مکمل فرمایا تو آپ نے ایک دعوت کا اہتمام فرمایا اور اس تقریب کے لئے خاص طور پر یہ نظم لکھی جس کا ہر شعر جیسا کہ میں نے کہا پُر درد دعاؤں، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نصائح سے پر ہے۔اس خوشی پر بھی آپ نے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے اپنی اولاد اور متبعین کو یہ توجہ دلائی کہ دنیا اور دنیا والوں سے دل نہ لگانا۔خدا کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ یہی زندگی کا مقصد ہے۔ایک وقت آئے گا جب دنیا اور اس کی تمام چیزیں یہیں رہ جائیں گی اور انسان اس دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔فرماتے ہیں:۔"شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے “ ( محمود کی آمین ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 323 ) پس جب یہ دنیا اور اُس کی چیزیں باقی رہنے والی نہیں تو پھر اس سے دل لگانا بھی بے فائدہ ہے۔پھر شکوہ کیسا؟ اگر ہمیشہ کا فائدہ حاصل کرنا ہے تو اُس ہستی سے تعلق جوڑ کر حاصل کیا جاسکتا ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہمیشہ رہنے والی ذات خدائے ذوالجلال والا کرام کی ذات ہے۔پس یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے دو اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔پہلی بات تو یہ کہ ہر چیز میں زوال ہے۔آہستہ آہستہ اُس نے ختم ہونا ہے اور ہر انسان کی آخری منزل موت ہے لیکن پھر ساتھ ہی اس طرف بھی توجہ دلائی، دوسری بات یہ کہی کہ مومنوں کو ، ایمان لانے والوں کو ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرنے والوں کو یہ بھی