خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 351

351 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء دی گئی جس میں بک ڈپو ہے اور وہ شاید حامد علی شاہ صاحب مرحوم و مغفور کے خرچ سے تازہ بنوایا گیا تھا۔حضورانور کے حکم سے ( مجھ کو جہاں تک یاد ہے ) صبح ناشتے میں عمدہ حلوہ بھی ہو تا تھا اور مکلف کھانا گھر سے آتا تھا۔مجھ کو خیال ہے کہ حضور انور شاہ صاحب مرحوم سے دریافت بھی فرماتے تھے کہ آپ لوگوں کو کوئی تکلیف تو نہیں تھی۔مہمان کا احترام حد درجہ حضور انور کے زیر نظر رہتا تھا۔رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 4 صفحہ 168 غیر مطبوعہ ) پھر منظور احمد صاحب ولد مولوی دلپذیر صاحب جو بھیرہ کے تھے ، وہ لکھتے ہیں کہ ”میرے والد بزرگوار بہت پہلے کے احمدی ہیں۔1894ء میں مع اپنی والدہ کے پہلی دفعہ حضرت خلیفہ اول سے ملنے کے لئے قادیان آئے اور مع والدہ کے اُسی وقت بیعت کی۔خلیفہ اول بچپن میں میرے دادا بزرگوار سے کچھ پڑھتے رہے تھے اور جو میرے دادا بزرگوار کی تیسری بیوی تھی حضرت خلیفہ اول کی منہ بولی بہن تھیں۔والد بزرگوار سے میں نے پوچھا کہ کوئی اُس وقت کا واقعہ یاد ہے ؟ تو آپ نے بتایا کہ ہم آٹھ آدمی تھے کہ حضور کے ساتھ ایک دن دو پہر کا کھانا مسجد مبارک میں جو اپنی پہلی حالت پر تھی، کھانے بیٹھے تھے۔(یعنی اُس وقت چھوٹی تھی، آٹھ دس آدمی ایک صف میں کھڑے ہوتے تھے) جن میں حضور اور خلیفہ اول بھی شامل تھے۔دو قسم کا سالن تھا اور دونوں میں گوشت تھا۔حضور اپنے سالن سے کبھی کبھی بوٹی اُٹھا کر باری باری سے دوسروں کے سالن میں رکھ دیتے تھے اور ایسا ہی خلیفہ اول بھی۔مہمانوں میں سے ایک نے عرض کیا حضور کھانے کے ساتھ آم کھانا کیسا ہے ؟ ( یعنی اگر آم ہو جائے کھانے کے ساتھ تو کیسا لگے؟) آپ نے فرمایا بہت اچھا۔(بڑی اچھی بات ہے ) پھر دوسرے نے عرض کیا حضور میں بازار سے لے آتا ہوں۔آپ نے فرمایا ٹھہر جائیں یا کچھ اور فرمایا یہ ٹھیک یاد نہیں رہا۔( کہتے ہیں) بہر حال ابھی بات ہو رہی تھی کہ ایک آدمی بٹالہ سے آموں کا پارسل لے کر آگیا جس میں آٹھ ہی آم تھے جو بڑے بڑے تھے۔سب کے آگے حضور نے ایک ایک رکھ دیا۔پھر چاقو پو چھا تو ایک نے چا تو پیش کیا۔آپ نے فرمایا پھانکیں کریں۔انہوں نے سب کی پھانکیں کر کے آگے رکھ دیں۔حضور اپنے آگے کی پھانکوں میں سے ایک ایک کر کے باری باری سب کے آگے رکھ دیتے رہے۔یاد نہیں کہ حضور نے اُن میں سے آپ بھی کوئی کھائی ہو“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 5 صفحہ 36-37 غیر مطبوعہ) تو اللہ تعالیٰ نے یہ کیسی مہمان نوازی کی ان مہمانوں کی کہ ایک مہمان نے خواہش ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کا انتظام بھی فرما دیا۔پھر حضرت فضل الہی صاحب ولد مولوی کرم دین صاحب مرحوم کہتے ہیں کہ ” قادیان میں یہ عاجز کثرت سے لاہور سے جایا کرتا تھا۔اکثر حضرت مفتی محمد صادق صاحب رفیق سفر ہوتے۔اور کئی دفعہ حضرت اقدس اندر بلا لیتے اور بڑی شفقت سے خود نیچے جا کر چائے وغیرہ خود اُٹھا کر لاتے اور مہمان نوازی فرماتے اور مسجد مبارک میں حضرت اقدس کے ساتھ بیٹھ کر بہت دفعہ کھایا پیا۔کئی دفعہ حضور نے اپنے کھانا میں سے عاجز کو بھی کوئی چیز عنایت فرمائی۔ازروئے شفقت۔ایک دفعہ حضرت اقدس بعد نماز مغرب مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر شہ نشین