خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 168

خطبات مسرور جلد نهم 168 14 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء بمطابق 08 شہادت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کچھ روایات پیش کروں گا۔پہلے بھی چند مرتبہ یہ روایات پیش کر چکا ہوں اور کوشش یہی ہے کہ یہ دوبارہ دہرائی نہ جائیں اور نئے صحابہ کی روایات سامنے آئیں۔جو رجسٹر روایات صحابہ کا ہے اُس میں سے میں نے لی ہیں، تا کہ آپ کو پتہ چلے کہ اُس زمانے میں صحابہ نے، اُن لوگوں نے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی، کس طرح آپ کو دیکھا؟ آپ پہ اُن کے تاثرات کیا تھے ؟ مختلف رنگ میں ہر ایک کی روایات ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان روایات کا ایک سلسلہ اپنے خطبات اور خطابات میں شروع کیا تھا۔میری کوشش تو یہی ہے کہ نہ وہ دوبارہ سامنے آئیں اور نہ جو میں بیان کر چکا ہوں وہ آئیں بلکہ نئے صحابہ کے نئے واقعات سامنے آتے رہیں۔یہ روایات ہمیں جہاں صحابہ کے اخلاص و وفا کے نمونوں اور اُن کے احمدیت میں شامل ہونے کے واقعات کا پتہ دیتی ہیں وہاں ان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام اور اپنے مخلصین سے آپ کے تعلق کا بھی پتہ چلتا ہے۔ان میں بعض مسائل کا حل بھی موجود ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اُن لوگوں کی یہ روایات میں پیش کرتا ہوں جو آپ کی پاک جماعت کا حصہ بنے۔جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جماعت نے اخلاص و وفا میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔پہلی روایت حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب ولد میاں نادر علی صاحب کی ہے ، جن کا بیعت کا سن اور زیارت کا سن 1900ء ہے۔یہ لکھتے ہیں کہ ”میں نے 1899ء میں بذریعہ خط کے بیعت کی اور اس سے پہلے بھی تین چار سال میرے والد صاحب نے بیعت کے لئے بھیجا تھا مگر میں بسبب بعض وجوہ کے واپس گھر چلا گیا اور بیعت نہیں کی) اس کے بعد سید بہاول شاہ صاحب جو ہمارے دلی دوست اور استاد بھی ہیں، انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور اُنہوں نے مجھے حضور کی کتابیں سنانی شروع کیں۔جتنی اس وقت تک حضور کی کتب