خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 169

169 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء تصنیف ہو چکی تھیں، قریباً قریباً ساری مجھ کو سنائیں۔انہی دنوں میں میں نے رؤیا د یکھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، میں حضور سے دریافت کرتا ہوں کہ حضور مرزا صاحب نے جو اس وقت دعوی مسیح اور مہدی ہونے کا کیا ہے کیا وہ اپنے دعویٰ میں بچے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں سچے ہیں۔(خواب میں ہی کہتے ہیں کہ) میں نے کہا حضور ! قسم کھا کر بتاؤ۔آپ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا کہ مجھے قسم کھانے کی حاجت نہیں۔میں امین ہوں زمینوں آسمانوں میں (میں امین ہوں۔اس کے بعد کہتے ہیں ) اُسی رات کی صبح کو میں نے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں بیعت کا خط لکھا۔اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا سلام بھی لکھ دیا۔اُس کے بعد 1900ء میں قادیان حاضر ہو کر حضور کے ہاتھوں پر بیعت کی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب صفحہ نمبر 120 غیر مطبوعہ) حضرت ماسٹر خلیل الرحمن صاحب۔ان کی بیعت کا سن 1896ء ہے۔کہتے ہیں کہ میری عمر قریباً 14 سال کی تھی، جب میں نے اپنے والد صاحب حضرت مولوی نیک عالم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اور برادرم مولوی غریب اللہ صاحب سکنہ موضع کلری کے، کے ساتھ تحریری بیعت کی۔اور 1898ء میں شروع دسمبر سے سالانہ جلسہ تک میں حضور کی خدمت میں حاضر رہا۔( جلسہ سالانہ پر گئے لیکن دسمبر کے شروع میں چلے گئے۔پھر یہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی تشریف آوری جہلم بمقدمہ کرم دین بھیں پر حضور جری اللہ کی خدمت میں حاضر رہا۔( اُس وقت بھی حضور کے ساتھ تھے) اور 1907ء کے جلسہ سالانہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری زیارت قریب ڈیڑھ ہفتہ تک کی۔آگے بیان کرتے ہیں کہ حضرت جری اللہ کی پہلی زیارت میں پنجگانہ نمازوں میں را قم حضور علیہ السلام کے ایک نمبر بائیں یادو نمبر بائیں صف اول میں رہتا تھا (یعنی دائیں یا بائیں کھڑے ہوتے تھے )۔اُن دنوں حضور انور پانچوں نمازوں کے بعد اپنے عاشقین خدام میں آدھ گھنٹہ یا کچھ اس سے کم و بیش عرصہ تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔اور اپنی قیمتی نصائح سے اپنے خدام کو مستفیض فرمایا کرتے تھے۔اور اکثر طور پر مغرب کا کھانا مسجد میں ہی تناول فرمایا کرتے تھے۔خصوصاً نماز صبح اور مغرب کے بعد عشاء تک اپنے عاشقوں اور فدائیوں کو روزانہ وعظ و تعلیم سے استفادہ فرمایا کرتے تھے۔ان ایام میں خاکسار کو روزانہ حضور علیہ السلام کے پاؤں اور ہاتھ دبانے کا اکثر موقع ملا کر تا تھا۔لیکن چونکہ میری عمر اس وقت چھوٹی تھی اس لئے حضور علیہ السلام کے ادب و شرم اور نبیانہ رعب کی وجہ سے خاکسار نے نہ تو کوئی بات حضور کی خدمت میں عرض کی اور نہ کبھی را قم کو کوئی بات کرنے کی جرات ہوئی۔حضور علیہ السلام کی تمام گفتگو نہایت ہمدردانہ اور نہایت مشفقانہ اور مربیانہ تھی۔لیکن خدا داد نبیانہ رعب کی وجہ سے اس ناچیز کو کبھی کچھ عرض کرنے کی جرات نہ ہوئی۔یہ میرا اپنا ہی قصور تھا کہ میں نے کبھی کوئی التماس نہ کی اور ساری فرحت اور خوشی حضور کے کلمات طیبات کے بادب اور ہمہ تن گوش بن کر سننے میں ہی محسوس کرتا تھا۔ایک دن حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سردار فضل حق صاحب مرحوم احمدی