خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 140
140 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اُس اخبار کی یاجو بھی سائٹ وغیرہ ہے یا چینل ہے اُس کی مشہوری ہو۔لیکن تبصرہ کرنے والے کہتے ہیں کہ باوجو داس کے کہ میڈیا نے اس کی خبر دی ہے اس خبر کو لوگوں کی طرف سے اتنی توجہ نہیں ملی۔انہوں نے مختلف لوگوں سے انٹرویو لئے۔امریکہ میں Council on American Islamic Relations ایک تنظیم ہے۔اُس کے نمائندے سے بھی پوچھا تو اس نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ خبیث شخص ہے۔اس کام کے کرنے سے یہ پندرہ منٹ کی شہرت تو شاید میڈیا میں حاصل کرلے لیکن ہم اگر کچھ بیان دیں گے تو اس سے اس کو چند منٹ کی اور شہرت مل جائے گی اور ہم نہیں چاہتے کہ اس کو مزید کسی قسم کی شہرت ملے۔بہر حال اُن کا اپنا خیال ہے۔اس قسم کی ظالمانہ اور خبیثانہ حرکتیں جیسا کہ میں نے کہا ہمیشہ سے اسلام کے خلاف ہوتی رہی ہیں اور ایسی حرکت چاہے کوئی شخص اپنے چند لوگوں کے درمیان بیٹھ کر کر رہا ہو یا پبلک میں کر رہا ہو ، ایک حقیقی مومن کو ، جب اس کے علم میں یہ بات آتی ہے تو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔لیکن ایک مومن کا اس تکلیف پہنچنے پر یہ رو عمل نہیں ہو تا کہ کسی کے سر کی قیمت لگا دو جس طرح بعض تنظیموں نے اُس کے سر کی قیمت لگائی ہے یا جلوس نکال کر توڑ پھوڑ کی جائے۔اپنے ملک کو نقصان پہنچایا جائے اور دشمن کے ہاتھ مزید مضبوط کئے جائیں۔بلکہ اصل رد عمل یہ ہے کہ اپنے قول سے، اپنے عمل سے ، اپنے کردار سے قرآنِ کریم کی ایسی خوبصورت تصویر پیش کی جائے کہ دنیا خو د ہی ایسی مکر وہ حرکتیں کرنے والوں پر لعن طعن کرنے لگ جائے۔جو اندھے ہیں اُن کو تو قرآنِ کریم کی شان نظر نہیں آتی اور نہ ہی آسکتی ہے ورنہ تو مختلف مذاہب کے بعض منصف مزاج جو ہیں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنِ کریم کی تعریف میں لکھا ہے۔اُن میں ہندؤوں میں سے بھی بعضوں نے لکھا ہے ، سکھوں نے بھی لکھا ہے، عیسائیوں نے بھی لکھا ہے اور ان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔میں یہاں ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں جو خود بولیں گی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان غیروں کی نظر میں کیا مقام ہے؟ اور قرآن کریم کی تعلیم کس قدر خوبصورت ہے ؟ صرف یہی بد بخت پادری نہیں ہے جو آج کل یہ بول رہا ہے۔چند دن ہوئے ایک اخباری کالم لکھنے والے نے بھی امریکہ کے اخبار میں یہ لکھا تھا کہ مسلمان تو بُرے نہیں ہیں۔یہ بھی دیکھیں دجال کی چال کس طرح ہے کہ مسلمان تو برے نہیں ہیں لیکن قرآنی تعلیم اصل وجہ ہے جو ان کو شدت پسندی اور دہشت گردی سکھاتی ہے۔نہ انہوں نے کبھی قرآن پڑھا ہو گا نہ دیکھا ہو گا۔صرف دلوں کے بغض اور کینے نکالنے ہیں۔بہر حال میں ایک حوالہ ہے جو پیش کرتا ہوں۔ایک کتاب ہے History of the Intellectual Development of Europe by John William Draper یہ نیو یارک سے چھپی ہے۔اس کے 1 Volume کے صفحہ 332 پر اُس نے لکھا ہوا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر غلط خیال ہے کہ عرب کی ترقی صرف تلوار کے زور پر تھی۔تلوار قوم کے مذہب کو تو بدل سکتی ہے لیکن یہ انسان کے خیالات اور ضمیر کی آواز کو نہیں بدل سکتی۔332 :History of the Intellectual Development of Europe by John William Draper V۔1۔Page)