خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 107

107 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم والوں کے علاوہ کسی کو گھیرے میں نہیں لیتیں۔یعنی صرف وہی اُس کے گھیرے میں آجاتے ہیں۔بے شک خدا تعالیٰ کے دوسرے قانون کے تحت قربانیوں کا دور بھی چلتا ہے لیکن آخری کامیابی خدا اوالوں کو ہی ہوا کرتی ہے۔نبی اور اس کی جماعت کو ہی ہوا کرتی ہے اور اس کے دشمن یقینا سزا کے مورد بنتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔اور خدا تعالیٰ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔یہ ایسی نہ تبدیل ہونے والی سنت ہے جس نے پہلے بھی دشمن کے بد انجام کے نمونے دکھائے اور آج بھی دشمن کے بد انجام کے نمونے دکھا رہی ہے اور دکھائے گی۔اس کے بڑے نمونے تو خدا تعالیٰ اپنے وقت پر دکھائے گا جیسا کہ اس دوسری آیت میں ذکر ہے جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔لیکن مومنوں کے ایمان کی مضبوطی کے لئے اللہ تعالیٰ مختلف وقت میں ان تکبر کرنے والوں اور حق کے مخالفین کی تدبیروں اور کوششوں کی ناکامی کے چھوٹے چھوٹے نظارے دکھاتارہتا ہے۔صدر گزشتہ دنوں انڈونیشیا میں ان نام نہاد ملاؤں کے چیلوں نے جو ظالمانہ کارروائی کی اور وہ خود بھی اُس میں شامل تھے۔اس کے بعد مُلاں کو مزید جرات پیدا ہوئی اور باقی جگہوں کے ان نام نہاد مولویوں نے بھی کہا کہ ہم کیوں پیچھے رہ جائیں۔چنانچہ انہوں نے اعلان کیا کہ یکم مارچ کو جکارتہ میں ایک بڑا جلوس نکالا جائے گا جس میں لاکھوں آدمی شامل ہوں گے۔اور انہوں نے اُس کی بڑی تیاری کی تھی اس جلوس میں ہمارا یہ مطالبہ ہو گا کہ احمدیوں کو مکمل طور پر بین (Ban) کرو۔یہ اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ دیں۔یا پھر اگر مسلمان کہلوانا ہے تو ہمارے میں شامل ہو جائیں۔ورنہ ہم اُس وقت تک اس احتجاج کو جاری رکھیں گے جب تک یا حکومت یہ فیصلہ نہیں کر دیتی یا مملکت کو ہم اُن کے صدارتی محل سے باہر نہیں نکال دیتے۔اور جتنا بڑا plan تیار ہو رہا تھا اس پر جماعت انڈو نیشیا کو بھی خیال تھا اور فکر بھی تھی کہ اس مخالفت، احتجاج اور جو جلوس کا اِن کاplan ہے اس کی شدت کا جو اندازہ لگایا جارہا ہے ، وہ بہت زیادہ ہو گی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ معمولی سا اور بے وقعت قسم کا ایک جلوس نکلا اور وہ بھی اپنے وقت سے بہت پہلے ختم ہو گیا۔ان کے جلوس کے اِس plan سے چند دن پہلے اللہ تعالیٰ نے حکومتی پروردہ مولویوں کے دل میں یہ ڈالا کہ ہم جلسہ کریں، اور ایک بہت بڑا جلسہ ہو گیا جس میں صدر مملکت خود بھی چلے گئے۔اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کی جو تدبیریں تھیں اُن کے رڈ کرنے کے سامان پیدا فرما دیئے۔بہر حال ہمارے تو نہ یہ حکومتی مولوی سگے ہیں نہ حکومت مخالف مولوی۔لیکن اللہ تعالیٰ بعض اوقات ایسے سامان پیدا فرما دیتا ہے کہ مخالفین کی آپس میں سر پھٹول ہو جاتی ہے۔تو اس جلسے کی وجہ سے جو پہلے ہو گیا اللہ تعالیٰ نے اس شدت پسند جلوس کے ناکام ہونے کے سامان پیدا فرما دیئے۔بہر حال ہم حکومت کے بھی شکر گزار ہیں کہ اس کے بعد سے عمومی طور پر حکمرانوں کا رویہ ، سوائے ایک دو وزراء کے ، جماعت کے حق میں بہتر رہا ہے۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جس طرح لاہور کی شہادتوں کے بعد افریقہ کے بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ نے افراد جماعت کے اخلاص اور وفا کے نظارے دکھائے اور اُن میں بیعتیں بھی ہوئیں، اسی طرح انڈونیشیا کے واقعہ نے بھی جماعت کے حق میں راستے کھولے ہیں اور سعید فطرت لوگوں کو حق پہچاننے کی توفیق ملی ہے۔