خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 85
خطبات مسرور جلد نهم 85 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء چنانچہ اس بد زبان نے پسر موعود سے متعلق پیشگوئی کی ایک ایک صفت کو اپنے تجویز کردہ الفاظ کے سانچے میں ڈھال کر پوری بے حجابی سے لکھا ( اور یہاں تک لکھ دیا کہ) ”خدا کہتا ہے کہ جھوٹوں کا جھوٹا ہے۔میں نے کبھی اس کی دعا نہیں سنی اور نہ قبول کی“۔(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 280 مطبوعہ ربوہ) اور پھر جب اس کا انجام ایک ہو وہ تو ساری دنیا کو معلوم ہے۔اس قسم کی دریدہ دہنی اور مفتریانہ باتوں سے اس کا اشتہار بھر اپڑا ہے۔یہ تو ہندو تھا جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہینچ دیا تھا۔اسی طرح کچھ عیسائی پادریوں نے بھی جو اسلام کے مخالف تھے ، اس قسم کی باتیں کیں۔لیکن بعض مسلمان کہلانے والوں نے بھی اپنی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا۔ان لوگوں کی باتوں کو سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اشتہار شائع فرمایا۔اُس میں آپ نے اس موعود بیٹے کی پیشگوئی کی عظمت کے بارہ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ الشان نشانِ آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤوف و رحیم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے۔اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اتم ہے کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جنابِ الہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے۔اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانہ و ببرکت حضرت خاتم الا نبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیاء موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صد با درجہ بہتر ہے۔مردہ کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کو سوں کا فرق ہے۔جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں وہ آنحضرت صلی علی ظلم کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟“۔(اشتہار واجب الا ظہار 22 مارچ 1886ء مجموعہ اشتہارات - جلد اول صفحہ 99 تا 100 مطبوعہ ربوہ۔صفحہ 114- 115 مطبوعہ لندن) بہر حال یہ پُر شوکت پیشگوئی تھی جس نے حضرت مصلح موعود کی خلافت کے باون سالہ دور میں ثابت کر دیا کہ کس طرح وہ شخص جلد جلد بڑھا؟ کس طرح اُس نے دنیا میں اسلام کے کام کو تیزی سے پھیلا یا ؟ مشن قائم کئے ، مساجد بنائیں۔آپ کے وقت میں باوجود اس کے کہ وسائل بہت کم تھے ، مالی کشائش جماعت کو نہیں تھی، دنیا کے چونیتیس پینتیس ممالک میں جماعت کا قیام ہو چکا تھا۔کئی زبانوں میں قرآنِ کریم کا ترجمہ شائع ہو چکا تھا' مشن کھولے جاچکے تھے۔اسی طرح جماعتی نظام کا یہ ڈھانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی بنایا تھا جو آج تک چل رہا ہے اور اس سے بہتر کوئی ڈھانچہ بن ہی نہیں سکتا تھا۔اسی طرح ذیلی تنظیمیں ہیں اُس وقت کی بنائی ہوئی ہیں وہ بھی آج تک چل رہی ہیں۔ہر کام آپ کی ذہانت اور فہم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قرآنِ کریم کی تفسیر ہے اور وسرے علمی کارنامے ہیں جو آپ کے علوم ظاہری و باطنی سے پر ہونے کا ثبوت ہیں۔