خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 647
خطبات مسرور جلد نهم 647 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء اسی طرح اُن کے والدین کے لئے کہ اللہ تعالیٰ اُن سب کا حامی و ناصر ہو۔اُن کو صبر اور حوصلہ دے اور بیو گان کے جو نوجوان بیوگان ہیں اُن کے رشتوں کے بھی اللہ تعالیٰ سامان پیدا فرمائے۔حضرت محمد یعقوب صاحب ولد میاں سراج دین صاحب جن کی بیعت 1900ء کی ہے اور 1904ء میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی۔لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی آغوش شفقت میں بچوں کو زیادہ جگہ عطا فرماتے۔بندہ حضور کی گود میں کھیلتا رہتا۔حضور کا چہرہ انور نُورٌ عَلَى نُور تھا ہمیں بچپن میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ماں باپ سے زیادہ محبت ہم سے کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کبھی لاہور تشریف لے جاتے تو حضور ہمارے غریب خانے کور وفق دے کر فخر بخشتے۔ایک دفعہ حضور سیر کو حسب دستور گئے تو حضور بند گاڑی میں جایا کرتے تھے۔جب واپسی کا وقت تھا تو میرے خاندان کے بزرگ قبله والد میاں سراج الدین صاحب مرحوم اور چچا میاں معراج الدین صاحب عمر اور میاں تاج الدین صاحب اور دیگر خاندان کے ممبر حضور کی آمد کے منتظر تھے۔ہمارے مکانوں کے سامنے سر کاری باغ تھا۔باغ کی سڑک پر جو ہمارے مکانوں سے متصل تھی، موچی دروازہ ، بھائی دروازہ کے بد معاش لوگوں کا بڑا ہجوم تھا۔جب حضور علیہ السلام تشریف لائے تو وہ سیڑھیوں پر سے مکان میں تشریف لے گئے تو بد معاش لوگوں نے پتھر برسانے شروع کئے۔اتنے میں والد صاحب مرحوم اور ہمارے چا صاحب نے مشورہ کیا کہ کیا تدارک ہونا چاہئے تو والد صاحب نے جو میرے لئے خادم رکھا ہوا تھا اُس کو فرمایا کہ اس کو اُٹھا لو چھوٹے بچے تھے اور اس وقت بندہ کچھ بیمار بھی تھا تو خادم نے بندے کو اٹھا لیا تو انہوں نے اسی وقت اس ہجوم کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔مقابلہ کے بعد ہجوم منتشر ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اب ان کو جانے دیں۔یہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ بندہ اپنے والد صاحب کے ہمراہ تھا۔حضور علیہ السلام مکان پر ٹھہرے۔جاتے ہوئے ایک جگہ پر کاغذ قلم دوات رکھی ہوئی تھی تو پھر کچھ لکھتے۔میرے والد صاحب نے عرض کیا کہ لڑکی کا نام پوچھا تو آپ نے امینہ بیگم فرمایا۔پھر ان کی ایک روایت ہے کہ جب کبھی قادیان اپنے والد صاحب کے ہمراہ بندہ آتا تو بچپن کی عادت پر بندہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مطب میں چلا جاتا جہاں آپ حکمت فرما یا کرتے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ بھی گود میں لے لیتے اور محبت کرتے۔وہ اکثر قرآن شریف کی تلاوت کرتے اور بچوں کو پڑھاتے۔(حضرت خلیفتہ المسیح الاول گود میں بچوں کو لے لیتے، اگر کوئی مریض نہیں ہوتا تھا ، تو قرآن شریف کی تلاوت کرتے اور بچوں کو بھی پڑھاتے اور یہاں سے اُٹھا تو جب مسجد مبارک میں بندھ جاتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کا موقع ملتا تو حضور اپنے پاس بٹھاتے تو کچھ باتیں دریافت کرتے۔اُس وقت چند مہمانوں سے مسجد مبارک میں رونق ہوتی تھی۔قادیان بالکل چھوٹا سا قصبہ تھا۔یہ ہر گز امید نہ کی جاسکتی تھی کہ حضور کے الہام ایسے رنگ میں پورے ہوں گے۔میرے والد صاحب مرحوم حضور کے بہت ہی عاشق تھے۔پرانے