خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 642
642 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مولوی سید احمد حسین صاحب مرحوم صرف دو کنگی مہمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تھے ، یہ شاید کٹک سے آئے ہوئے تھے ہم دونوں کے لئے کئی ماہ تک چاول کے مکلف کھانے آتے رہے۔کیونکہ یہ غالباً اڑیسہ کا چاول کھانے والا علاقہ ہے۔تو چاول کھانا آتا رہا اور حضور علیہ السلام میاں نجم الدین مرحوم کو اچھی طرح مہمان نوازی کی تاکید فرمایا کرتے تھے جس طرح کہ مرحوم نجم الدین ہم دونوں سے بیان کیا کرتے تھے کہ تم لوگوں کے متعلق حضرت جی کی بڑی تاکید ہے۔پھر یہی سید اختر الدین صاحب فرماتے ہیں کہ خاکسار طالبعلمی کی حالت میں تھا اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ کے درسوں میں شامل ہوا کرتا تھا۔آپ یعنی حضرت خلیفہ اول اس عاجز سے بہت ہی محبت فرمایا کرتے تھے ، حضرت والد ماجد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت والدہ ماجدہ مرحومہ، ربّ ارحَمُهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا ( بنى اسرائيل : 25) نے جبکہ گھر واپسی کا حکم صادر فرمایا تو اسی عاجز کے یہ عرض کرنے پر که آمد ورفت میں اخراجات کثیر دار الامان کی مراجعت مشکل۔حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہاں آنے لگو تو لکھنا میں زادِ راہ بھیج دوں گا۔والدین نے جب واپسی کا حکم دیا۔اور جب میں اپنے گھر جانے لگا تو میں نے خلیفہ اول کو کہا کہ کیونکہ اخراجات کافی ہوتے ہیں اس لئے اب یہاں قادیان میری واپسی مشکل ہو گی۔تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ جب آنے لگو تو مجھے بتانا میں تمہیں سفر خرچ بھیج دوں گا۔جس وقت اس عاجز سے گھر واپسی کا زمانہ قریب ہونے لگا تھا اُن دنوں چھوٹی مسجد مبارک کے بالائی حصے میں نماز ہوا کرتی تھی۔آپ نے جانب مشرق نیچے سے اپنے مبارک ہاتھوں کو اس عاجز کے کندھے پر رکھ کر پیار سے فرمایا کہ اختر الدین میں نے سنا ہے کہ تم کئی استادان بزرگ سے قرآن مجید بہت پڑھا کرتے ہو۔( کہتے ہیں اُس وقت میں بہت سارے استادوں سے قرآنِ کریم پڑھا کرتا۔خلیفہ اول نے ان کو یہ فرمایا: وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ - (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 7 صفحہ 212-213 غیر مطبوعہ روایت حضرت سید اختر الدین صاحب) کہ اللہ کا تقویٰ کا اختیار کرو، اللہ تمہیں پڑھائے گا۔پس قرآنِ کریم سمجھ کر پڑھنے کی بنیادی شرط یہی ہے۔صحابہ میں قرآنِ کریم پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔حضرت خلیفہ اول سے بھی پڑھا کرتے تھے نوجوانی میں درس لیا کرتے تھے اور دوسرے اساتذہ سے بھی پڑھتے تھے کہ اور مزید سیکھیں۔اور پھر منتقی کو اللہ تعالیٰ خود قرآنِ کریم پڑھاتا ہے، رہنمائی فرماتا ہے اور اسی طرح صحابہ کی زندگیوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کو ماشاء اللہ قرآن کریم کا بڑا اعلم تھا۔پھر ایک روایت حضرت خیر دین صاحب ولد مستقیم صاحب کی ہے۔ان کی بیعت 1906ء کی ہے اور 1906ء میں ہی ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی توفیق ملی۔کہتے ہیں کہ ایک دن کی بات ہے کہ حضور مغرب کی نماز کے بعد بیٹھے رہے۔اتفاقاً اس دن مسجد میں روشنی نہیں تھی۔حضور کے ارد گر د چند اور لوگ بھی اور خاکسار بھی بیٹھا ہوا تھا۔ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور مولوی کہتے ہیں یعنی غیر از جماعت مولوی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام ناصری، حضرت عیسی علیہ السلام جانور بنایا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ شیخ صاحب خدا خالق اور مسیح بھی خالق۔بس ایک فقرہ فرمایا یہ روایت کرنے والے لکھتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ شیخ صاحب کون تھے