خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 641 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 641

خطبات مسرور جلد نهم 641 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء پھر حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم جن کا پہلے ذکر آیا ہے کے حالات بیان کرتے ہوئے ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ خواب میں دیکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب جوا کھیل رہے ہیں مولوی صاحب نے ( جلال الدین صاحب نے ) یہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کی تو حضور نے فرمایا: مولوی صاحب! ( یعنی مولوی جلال الدین صاحب کو کہ) مولوی صاحب جوا ہی کھیلتے ہیں ( یعنی حضرت خلیفہ المسیح الاول حضرت مولانا نورالدین صاحب جوا ہی کھیلتے ہیں مگر خدا سے۔یہ بھی جوا کھیلنے والوں کی طرح جس طرح وہ سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے۔اسی طرح مولوی صاحب بھی سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں داؤ پر رکھ دیتے ہیں یا خدا تعالیٰ کی راہ پر ان دونوں فقروں میں سے کوئی انہوں نے کہا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 12 صفحہ 280-281 غیر مطبوعہ روایت حضرت مولوی جلال الدین صاحب بیان کردہ میاں شرافت احمد صاحب) یعنی یہ ایک سودا ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کرتے ہیں اور دنیادار تو دنیاوی فائدے کے لئے جوا میں پیسے داؤ پر لگاتے ہیں ناں۔حضرت خلیفہ اول کے بارے میں فرمایا کہ یہ اپنی دنیا و عاقبت دونوں چیزوں کو سنوارنے کے لئے اپنا پیسہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر جیسا کہ ہم جانتے ہیں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی زندگی کے واقعات بیشمار واقعات ہیں، کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کی ہر دنیاوی ضرورت پوری کی اور بے انتہا پوری کی اور اسی طرح دین میں جو مقام اُن کو ملا وہ تو سب جانتے ہی ہیں۔پھر حضرت صوفی غلام محمد صاحب ولد میاں ولی محمد صاحب فرماتے ہیں کہ 1912ء میں میں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا اُس کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اول سے پوچھا کہ قرآنِ شریف یاد کروں یا ایم۔اے کا امتحان دوں۔فرمایا قرآن کریم یاد کرو، ایم۔اے کیا ہوتا ہے سو میں نے چھ ماہ میں قرآن شریف یاد کیا اور جب میں نے خلیفہ اول سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے سجدہ شکر کیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 7 صفحہ 285 غیر مطبوعہ روایت حضرت صوفی غلام محمد صاحب) یہ صحابہ کی تربیت تھی، یہ اُن کی اطاعت تھی، یہ محبت قرآنِ کریم کی تھی کہ دنیا کو چھوڑ کر پہلے قرآنِ کریم حفظ کیا پھر آگے پڑھائی کی۔پھر حضرت سید اختر الدین احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے۔لکھتے ہیں کہ ذکرِ حبیب کم نہیں وصل حبیب سے۔محب کا دل اپنے حبیب کی یاد اور ذکر کرنے اور ستانے کی تڑپ رکھتا ہے۔چہ جائیکہ خداوند رحمان و رحیم کا فرستادہ سردار انبیاء ہمارے آقا محبوب و مطاع حضرت نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا بروزِ کامل، مظہر جمال، حبيبنا و متاعنا و نبینا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسے عظیم الشان انسان کے ذکر کی تڑپ نہ رکھتا ہو اور آپ کی یاد سے لذت نہ اُٹھا تا ہو۔لیکن خوف مجھے یہ ہو تا رہا کہ اس عاجز کا حافظہ کمزور اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک صحبت پر ایک مدت گزر گئی۔یعنی 1902ء کے آخر سے لے کے 1903ء کے آخر تک قریباً ایک سال میسر آئی تھی اور اُس وقت میری عمر 24 سال کی تھی۔اُن دنوں خاکسار اور خاکسار کے ماموں