خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 636 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 636

636 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہیں۔چوراسی سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے اور ماشاء اللہ بڑی خوبیوں کی مالک تھیں۔ہر خطبہ کے بعد ان کا مجھے فون آیا کرتا تھا اور خاص طور پر مجھے بھی دعا کے لئے کہنا، اپنے بچوں کے لئے کہنا کہ صحیح رستے پر قائم رہیں۔ان کے بیٹے ندیم فیضی صاحب امریکہ کی ایک جماعت کے صدر جماعت بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور نیکیاں بچوں میں قائم رکھے۔اگلا جنازہ میاں عبد القیوم صاحب ابن مکرم میاں وزیر محمد صاحب کو ئٹہ کا ہے۔6 دسمبر کو ان کی اٹھاسی سال کی عمر میں وفات ہوئی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کو والہانہ عشق تھا، خلافت سے بڑا تعلق تھا۔ان کا نکاح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھایا تھا اور وکیل کے فرائض بھی حضرت مصلح موعودؓ نے خود انجام دیئے تھے۔پھر محمد مصطفی صاحب حلقہ اورنگی ٹاؤن کراچی کے ہیں 27 ستمبر کو ان کی وفات ہوئی تھی اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔1971ء میں احمدیت قبول کی تھی، خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔احمدی ہونے پر آپ کو بہت سے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بھائیوں نے گاؤں والوں کے سامنے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔احمدیت قبول کرنے سے قبل آپ کا شمار بھی احمدیت کے شدید معاندین میں ہو تا تھا مگر احمدی ہونے کے بعد آپ کی کایا پلٹ گئی اور جماعت کے ساتھ آپ نے ہمیشہ اخلاص اور وفا کا تعلق رکھا۔آپ کو اپنے حلقے میں بطور سیکرٹری تعلیم القرآن، مربی اطفال، سیکرٹری دعوت الی اللہ اور معلم مقامی کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی۔بے شمار اطفال، انصار ، ناصرات اور لجنہ کو قرآنِ کریم ناظرہ اور باترجمہ پڑھایا۔قرآنِ کریم کا بیشتر حصہ حفظ تھا۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا نوید مصطفی مربی سلسلہ یاد گار چھوڑے ہیں۔پھر ملک نذیر احمد صاحب آف چکوال ہیں۔21 جولائی کو ان کی وفات ہوئی تھی انہوں نے درخواست کی تھی کہ جنازہ غائب پڑھایا جائے۔حضرت ملک کرم دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔1930ء میں ان کے والد انہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت کے لئے قادیان چھوڑ گئے جہاں آپ سترہ سال رہ کر بھر پور خدمت سر انجام دیتے رہے۔مرحوم موصی تھے، انتہائی مخلص اور خلافت سے بے پناہ عشق کرنے والے تھے۔پھر فتح محمد خان صاحب ہیں ان کی 28 نومبر کو وفات ہوئی ہے۔بڑے نیک، شریف النفس انسان تھے۔پسماندگان میں پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔آپ کے بیٹے مکرم حافظ برہان محمد صاحب واقف زندگی جامعہ احمدیہ میں استاد ہیں اور ایک داماد میر عبد الرشید تبسم صاحب مرحوم مربی سلسلہ تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔ان کے پسماندگان کو صبر ، ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے، نیکیوں پر قائم رکھے اور اخلاص و وفا سے جماعت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا نمازوں کے بعد ان سب کی نماز جنازہ غائب ادا کی جائے گی۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 13 جنوری تا 19 جنوری 2012ء جلد 19 شماره 2 صفحہ 5 تا 9)