خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 635
635 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ابھی جمعہ کی نماز کے بعد ان کی نماز جنازہ انشاء اللہ پڑھاؤں گا۔اس کے ساتھ ہی چند جنازے اور بھی ہیں۔پہلا ہے امتیاز بیگم صاحبہ کا جو مکرم و محترم مولانا محمد منور صاحب مرحوم جو ایسٹ افریقہ میں مبلغ رہے ہیں، اُن کی اہلیہ تھیں۔15 دسمبر کو اُن کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔1936ء میں آپ پیدا ہوئی تھیں اور 24 نومبر 1952ء کو ان کی شادی مولانا محمد منور صاحب سے ہوئی تھی۔آپ مولوی صاحب کی دوسری اہلیہ تھیں، اور شادی کے وقت سے لے کے جب تک مولوی محمد منور صاحب ریٹائر ہو کے میدانِ عمل سے واپس آئے، سوائے تین چار سال کے باقی سارا عرصہ مرحومہ کو اپنے بزرگ واقف زندگی خاوند کے ساتھ کینیا، تنزانیہ، فلسطین اور نائیجیریا میں خدمت کی توفیق ملی۔مولوی محمد منور صاحب نے اپنی کتاب ” ایک نیک بی بی کی یاد میں “ اپنی دونوں بیویوں کی آپس کے سلوک کی بہت تعریف فرمائی ہے اور اس کتاب کی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے بھی بڑی تعریف فرمائی تھی کہ اس طرح رہنا چاہیئے۔مولانا محمد منور صاحب کی پہلی بیوی کو یہ ( دوسری بیوی جو تھیں جن کی وفات ہوئی ہے) ہمیشہ آپا کہہ کر بلایا کرتی تھیں۔کبھی ان کے لئے سوت یا سوکن کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ ہی کبھی منفی رویہ اور سلوک روارکھا۔دونوں بیویوں کا آپس میں بڑا ہی اچھا سلوک تھا۔دونوں ایک دوسرے کی اولاد کا اتنا خیال رکھا کرتی تھیں کہ لوگ اُن کے بچوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ان دونوں میں سے آپ کی حقیقی والدہ کون سی ہیں۔دوسروں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کئی مرتبہ اپنی پنشن کی رقم نکلوا کر اور بعض اوقات قرض لے کر بھی دوسروں کی مدد کیا کرتی تھیں۔آپ کے بیٹے مبارک احمد طاہر صاحب جو سیکرٹری نصرت جہاں ربوہ ہیں۔یہ بتاتے ہیں کہ خدمت دین کا شوق رکھنے والی، بڑی نڈر ، بہادر اور بہت جرآت مند خاتون تھیں۔احمدی اور غیر احمدی سب کی یکساں مدد کیا کرتی تھیں۔یہ جو مبارک احمد طاہر صاحب ہیں یہ پہلی والدہ سے ہیں۔مولانا محمد منور صاحب کی یہ اہلیہ جواب فوت ہوئی ہیں اس والدہ سے ان کی بہن ہے ان سے ، ایک بیٹی امتہ النور طاہرہ صاحبہ ہیں جو عبد الرزاق بٹ صاحب مبلغ سلسلہ کی اہلیہ ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نیکیاں ان کی اولادوں میں بھی جاری فرمائے۔اگلا جو وفات کا اعلان ہے وہ سسٹر زینب وسیم صاحبہ بنت مکرم کمال الدین کاہلوں صاحب آف یو۔ایس۔اے کا ہے جو 6 دسمبر کو تر اسی سال کی عمر میں وفات پاگئیں انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ نے صدر لجنہ کلیولینڈ کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔نہایت نیک اور سلسلہ کا درد رکھنے والی مخلص خاتون تھیں ، لوکل امریکن تھیں۔ان کے میاں اور دو بیٹے یاد گار ہیں۔پھر اگلا جنازہ امۃ الرحمن صاحبہ کیلگری کا ہے، جن کی اکسٹھ سال کی عمر میں کینسر سے وفات ہوئی۔انا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔نہایت نیک، نمازوں کی پابند، تہجد گزار، متقی خاتون تھیں۔عمرہ کی سعادت ملی۔قرآنِ کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کو بیحد لگاؤ تھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔اگلی وفات یافتہ ہیں سیدہ وسیمہ بیگم صاحبہ بنت حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب مرحوم جو امریکہ سے ہیں۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے سب سے بڑے ماموں تھے ، یہ اُن کی بڑی بیٹی