خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 634 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 634

634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اور اپنے کام میں حرج نہ ہونے دیتے تھے۔آخری بیماری میں پانچ دفعہ ہسپتال گئے لیکن ہر دفعہ ڈاکٹر سے یہی سوال ہو تا تھا کہ میں دفتر کب جاسکوں گا۔وفات سے دو تین دن پہلے دفتر گئے ، وہاں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ اس دوران میں ان کو تکلیف ہوئی ہے اور پھر وہاں سے بارہ بجے چیک اپ کے لئے گئے تو ڈاکٹروں نے داخل کر لیا۔وہاں بھی بیڈ پر لیٹے ہوئے دفتر کا کام چیک کیا کرتے تھے۔کارکنان کا غذات لے آتے تھے اور کام کرتے رہتے تھے۔آخری دن کہا کہ دعا کریں اور اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔اُن کو پتہ لگ گیا تھا کہ اُن کی وفات کا وقت قریب ہے تو کہنے لگے کہ میری فلائٹ کا وقت ہو گیا ہے۔جو بھی یہاں سے فیکس جاتی تھی، ہمیشہ اپنے ہاتھ سے اُس کا جواب دیا کرتے تھے۔اب تک جو اُن کا آخری خط بھی مجھے آیا، وہ بھی اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا تھا کسی کلرک سے نہیں لکھوایا اور نہ ہی کمپوز کرواتے تھے اور آرام آرام سے بڑا خو بصورت لکھتے تھے۔حالانکہ کمزوری کی وجہ سے اُن کے ہاتھ بھی کانپتے تھے لیکن پھر بھی بڑا وقت لگا کر لکھا کرتے تھے۔14 دسمبر کو ساڑھے گیارہ بجے دفتر میں رہے اُس کے بعد وفات ہوئی جیسا کہ میں نے بتایا، آپکی خواہش یہی تھی کہ آپ کی وفات دفتر میں ہی ہو۔ہسپتال میں یہ فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ روحانی خزائن کی تمام غلطیوں کا کام مکمل کر کے اس فرض سے فارغ ہو جاؤں لیکن اس بات کی مہلت نہیں ملی۔ایک مربی سلسلہ جو نظارت اشاعت میں ہیں لکھتے ہیں کہ عبد الحئی شاہ صاحب کے ہم زلف نے انہیں بتایا کہ 17 دسمبر کو شاہ صاحب نے خواب دیکھا کہ ان کی اہلیہ آئی ہیں اور انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے ابھی تک ٹکٹ نہیں لیا۔شاہ صاحب نے کہا کہ ابھی تک نہیں لیا۔کچھ وقفے کے بعد دوبارہ شاہ صاحب نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ ہاں میں نے ٹکٹ بھی لے لیا ہے اور بورڈنگ بھی ہو گئی ہے۔جس روز محترم شاہ صاحب کی وفات ہوئی اس دن صبح دس بجے کے قریب اُن کے دوست ہسپتال میں شاہ صاحب کی عیادت کے لئے گئے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں نے یہ کہا ہے کہ ہم نے جو کوشش کرنی تھی وہ کر لی ہے۔اُس کے بعد شاہ صاحب نے اپنے بیٹے عمران کو بلایا اور ہلکا سا کہا کہ فلائٹ آگئی ہے۔بیٹے کو سمجھ نہ آئی، اور بات سمجھنے کے لئے قریب ہوا لیکن اس کے بعد وفات ہو گئی کوئی بات نہ کر سکے۔تو یہ خادم سلسلہ آخر دم تک سلسلہ کے لئے وقف رہا اور حتی المقدور سلسلے کے کام کو ہر دوسری بات پر ترجیح دی۔شاہ صاحب نے دینی علم حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھیں تو اُن پر عمل بھی کیا۔صرف علم ہی حاصل نہیں کیا جیسا کہ مختلف احباب نے بیان کیا ہے اور میں نے بتایا ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی ہمیشہ کوشش کی۔جب میں ناظر اعلیٰ تھا تو اُس وقت وہ ناظر اشاعت تھے اس وقت بھی میں نے ان کو کامل اطاعت کرنے والا پایا۔اور جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کی ردا مجھے پہنائی تو شاہ صاحب کو اخلاص و وفا میں پہلے سے بھی بہت زیادہ بڑھا ہوا پایا، اور یقینا ہونا بھی یہی چاہئے تھا کہ خلافت سے ایک تعلق اور ہوتا ہے۔بیعت کی روح کو سمجھنے والے اور اپنی تمام تر طاقتوں سے اُس کا حق ادا کرنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور خلیفہ وقت کو اور خلافت احمدیہ کو ہمیشہ ایسے جانثار اور خدمت کرنے والے سلطان نصیر اللہ تعالیٰ عطا فرما تار ہے۔(آمین)