خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 632
خطبات مسرور جلد نهم 632 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء ایک اور مربی صاحب لکھتے ہیں کہ جب روحانی خزائن کا کام ہو رہا تھا تو اُس وقت اس عاجز کو ایک واقعہ سے پتہ چلا کہ آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر کس قدر یقین ہے۔وہ واقعہ اس طرح ہے کہ ہنری مارٹن کلارک والے مقدمے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر جگہ حج کا نام ڈگلس لکھا ہے ، لیکن روحانی خزائن جلد 15 کتاب تریاق القلوب صفحہ 349 میں حج کا نام ہے۔آر۔ڈریمنڈ اور جگہ کا نام پٹھانکوٹ لکھا ہے۔اس کام کے لئے ریسرچ سیل اور تاریخ احمدیت والوں کو بھی لکھا گیا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔دونوں کی رائے یکساں تھی کہ سہو کتابت ہے۔لیکن مکرم شاہ صاحب کی رائے یہ تھی کہ اتنی بڑی سہو نہیں ہو سکتی اور آپ نے اس کے اوپر کوئی حاشیہ نہ دیا اور اس کو اسی طرح رہنے دیا۔لیکن جب روحانی خزائن جلد 18 میں نزول المسیح کے اوپر کام ہو رہا تھا تو وہاں صفحہ 578 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے ”عبد الحمید دوبارہ ڈیڑھ سال بعد پکڑا گیا تو اس سے وہی بات دوبارہ پوچھی گئی تو وہ اپنے بیان پر قائم رہا کہ میں نے عیسائیوں کے سکھلانے پر کہا تھا“ (یعنی دوسری دفعہ جب پکڑا گیا تو اس وقت حج دوسر ا تھا جس کا وہ نام تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا، نہ کہ پہلی دفعہ) پھر لکھتے ہیں کہ شاہ صاحب کبھی بے چین نہیں ہوتے تھے اور ہمیشہ اپنے کارکنان کے ساتھ محبت کا سلوک کرنے والے تھے۔خلافت لائبریری ربوہ کے لائبریرین صاحب لکھتے ہیں کہ بہت ہی نافع الناس وجو د تھے۔خاکسار نے دیکھا ہے کہ وہ سلسلے کا کام بہت محنت اور لگن سے کرتے۔اپنی بیماری کے باوجود پورا وقت کام کرتے رہتے۔ہمیشہ اُن کے پاؤں سوجے رہتے تھے۔اُن کو بیماری تھی، تکلیف تھی، دل کی تکلیف بھی تھی۔لکھتے ہیں کچھ ماہ قبل براہین احمدیہ کے ایڈیشن چیک کرنے سے متعلق ایک کام لندن سے آیا تھا ( مختلف ایڈیشنز جو تھے اُن کو چیک کرنے کے لئے میں نے ایک کام سپر د کیا تھا) تو محترم شاہ صاحب نے خاکسار کو پیغام بھیجا (لائبریرین صاحب کو ) کہ جتنے ایڈیشن براہین احمدیہ کے تھے اُن کو ایک کارٹن میں ڈال کر اکٹھے کر لیں۔کہتے ہیں میں نے سب ایڈیشن اکٹھے کر کے ایک کارٹن میں ڈال دیئے اور پوچھا کہ چیک کروانے کے لئے لے آؤں؟ تو کہنے لگے کیوں تکلیف کرتے ہو میں خود آجاتا ہوں۔اور اس کے باوجود کہ چلنا مشکل تھالا ئبریری خود تشریف لائے اور براہین احمدیہ کے سارے ایڈیشن چیک کئے۔کہنے لگے کہ پرانے ایڈیشن میں سے کوئی ضائع نہ ہو جائے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آکر خود چیک کر لوں اور پھر کئی گھنٹے لگا کر خود چیک کئے۔ہمارے عربی ڈیسک کے محمد احمد نعیم صاحب لکھتے ہیں کہ تفسیر کبیر کا تفصیلی انڈیکس تیار کرنا جب کہ کمپیوٹر بھی نہیں ہو تا تھا بہت محنت طلب اور باریک بینی کا متقاضی تھا جو آپ نے بڑی محنت سے تیار کیا۔پھر آپ کی انکساری یہ ہے کہ موجودہ روحانی خزائن میں کئی ایک پرنٹنگ کی غلطیاں رہ گئی ہیں اور ترجمے کے دوران جب بھی ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے جہاں غلطی تھی بڑے حوصلے سے اعتراف کیا اور جہاں کوئی وضاحت ہو سکتی تھی مناسب وضاحت کی اور بہت جلد ایسے استفسارات کا جواب موصول ہو جاتا تھا۔بڑی محنت سے انہوں نے پروف ریڈنگ بھی کی تھی لیکن بشری تقاضے کے تحت غلطیاں پھر بھی رہ جاتی ہیں ، لیکن اس کا ان کو صدمہ بھی بڑا تھا کہ اتنا خوبصورت پرنٹ شائع ہو اہے تو اس میں غلطیاں نہیں رہنی چاہئے تھیں۔