خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 626
626 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم السلام کی کتب کا سیٹ روحانی خزائن کی کتابت اور پھر جدید کمپیوٹر ائز ڈایڈ یشن کی تیاری اور نگرانی فرمائی۔متعد د کتب کے انڈیکس بنائے اور پیش لفظ و تعارف لکھے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے ترجمہ قرآن کے حوالے سے بھی بہت سی خدمات سر انجام دیں۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے لیکچرز پر مشتمل کتاب ”ہو میو پیتھی“ کی تیاری میں بھی آپ نے بھر پور حصہ لیا۔بڑے صائب الرائے ، سادہ مزاج، شریف النفس، معاملہ فہم، حلیم الطبع، مدبر ، کم گو اور ہمیشہ نپی تلی بات کرنے والے تھے۔ٹھوس علمی پس منظر کی وجہ سے ہر معاملے کی خوب گہرائی سے تحقیق کرتے تھے اور اپنی پختہ رائے سے نوازتے تھے۔خلفائے سلسلہ کی طرف سے موصول ہونے والے علمی موضوعات کی تحقیق اور حوالہ جات کی تخریج و تکمیل کو اول وقت میں انجام دینے کی کوشش کرتے تھے۔کتب کی تیاری، طباعت ، اشاعت تک کے مراحل میں اپنے عملے کی رہنمائی کرتے اور بڑے گہرے مشورے دیتے۔آپ کے کاموں میں یہ چند اہم باتیں تھیں۔پھر ناظر اشاعت کو پر نٹنگ کا بھی تجربہ ہونا چاہئے اور جیسا کہ الفضل اور دوسرے رسالوں کے پرنٹر و پبلشر تھے۔اس لحاظ سے ان کو پر نٹنگ کے کاغذ کو چیک کرنے کی بڑی مہارت تھی۔پریس مشینری کی ایک ایک چیز اُن کی قسمیں، ٹیکنیکل معلومات آپ کو ازبر ہوتی تھیں۔اسی طرح کتاب کی اشاعت ہو یا اخبارات کی طباعت ، ہر معاملے میں بڑی معین اور ٹھوس رہنمائی فرماتے۔(ماخوذ از روزنامه الفضل جلد 96-61 نمبر 285 مورخہ 20 دسمبر 2011ء صفحہ 891 ) پھر عبد الحئی شاہ صاحب کے بارے میں الفضل میں بھی لکھا گیا ہے کہ اپریل 1945ء میں زندگی وقف کرنے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن عہد وقف زندگی کا فارم 11 نومبر 1950ء کو پر کیا۔اور جیسا کہ پہلے میں نے بتایا کہ مڈل تک تعلیم حاصل کی پھر جامعہ میں داخلہ لیا اور جامعہ کی تعلیم کے دوران، میٹرک کا امتحان، یونیورسٹی میں چھٹی پوزیشن حاصل کر کے پاس کیا۔جامعہ میں بھی ہر سال اللہ کے فضل سے پہلی پوزیشن لیتے رہے۔اسی طرح مولوی فاضل کے امتحان میں صوبہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔فروری 1956 ء میں ان کی پہلی تقرری ہوئی اور مختلف شعبہ جات میں خدمات سر انجام دیتے رہے۔29 جون 1982 ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے آپ کو ناظر اشاعت مقرر فرمایا اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے علمی نکات سے مزین درس القرآن میں حوالہ جات کی تخریج کے ذریعے معاونت کا شرف حاصل کیا۔روزانہ رات تین تین بجے تک اپنی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر آپ نے یہ کام سر انجام دیا۔جب تک جملہ امور مکمل کر کے لندن فیکس نہ کر دیتے تھے ، آرام نہیں کرتے تھے۔خطبات وغیرہ کے لئے بھی علمی معاونت کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے ترجمہ قرآن کی اور ہو میو پیتھی کی جو کتاب تھی اُس کی تدوین ٹیم کے ممبر تھے۔اس سلسلے میں اپنے مفوضہ کاموں کو بہت خوش اسلوبی سے مکمل کیا۔تراجم قرآن منصوبہ کے تحت قرآن کریم کے پنجابی، سندھی، پشتو اور سرائیکی زبانوں میں تراجم کی تکمیل واشاعت کی توفیق ملی۔(ماخوذ از روز نامہ الفضل جلد 96-61نمبر 286 مورخہ 21دسمبر 2011ءصفحہ 1و8 )