خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 625 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 625

خطبات مسرور جلد نهم 625 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء گزشتہ دنوں ان خوبیوں کے مالک ہمارے ایک بزرگ کی وفات ہوئی ہے جو یقینا جماعت کا عظیم سرمایہ تھے جن کا نام محترم سید عبد الحئی شاہ صاحب ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُونَ۔اللہ تعالیٰ اُن کو اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ عطا فرمائے۔اس جماعتی نقصان کو محض اور محض اپنے فضل سے پورا فرمائے۔اُن کے بیشمار نعم البدل پیدا فرمائے تا کہ احمدیت کا یہ قافلہ اپنی منزلوں کی طرف ہمیشہ اور تیزی سے رواں دواں رہے۔اس وقت میں محترم سید عبد الحئی صاحب کا کچھ ذکر خیر کروں گا۔مکرم شاہ صاحب 12 جنوری 1932ء کو کوریل ضلع اننت ناگ کشمیر میں پیدا ہوئے۔اور بڑے ہوئے تو پھر یہ قادیان آگئے تھے ، اور قادیان آنے کے بعد پھر وہیں سے جب ہندو پاک کی پارٹیشن ہوئی ہے تو یہ پاکستان آئے۔ان کی والدہ کشمیر میں ہی تھیں، اُن سے یہ علیحدہ ہوئے ہیں اور پھر چالیس سال کے بعد اُن کو جا کر مل سکے ہیں۔چالیس سال تک اپنی والدہ کو نہیں مل سکے۔اور یہ جدائی انہوں نے دین کی خاطر بر داشت کی۔(ماخوذ از روزنامه الفضل جلد 61-96 نمبر 286 مورخہ 21 دسمبر 2011ء صفحہ 1) ان کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ ان کے دادا سید محمد حسین شاہ محلہ خانیار سری نگر کے گیلانی سید خاندان کے فرد تھے۔اس خاندان کے افراد نے مذہبی اختلافات کی بنا پر آبائی علاقہ کو چھوڑا اور علاقہ ناڑوا د میں مقیم ہو گئے۔ان کے ایک فرزند سید عبد المنان شاہ صاحب تھے جنہوں نے جوانی میں بیعت کی اور احمدی ہوئے، بلکہ بچپن میں ہی انہوں نے احمدیت قبول کر لی تھی اور پیری مریدی کو احمدیت پر قربان کر دیا تھا۔انہوں نے انتہائی عاجزی اور انکساری سے زندگی گزاری۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جموں و کشمیر مصنفہ محمد اسد اللہ قریشی صفحہ 132 مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ) تاریخ احمدیت جموں اور کشمیر میں مکرم عبد الحئی شاہ صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ مکرم سید عبدالحئی صاحب شاہد 1941ء میں قادیان آئے اور 1945ء میں اسلام کے لئے زندگی وقف کر کے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔تقسیم ملک کے بعد 1949ء میں احمد نگر ضلع جھنگ میں دوبارہ جامعہ احمدیہ میں آئے۔1953ء میں مولوی فاضل پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی میں اول قرار پائے۔1955ء میں جامعتہ المبشرین سے شاہد پاس کیا۔بعد میں ایم۔اے عربی بھی امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جموں و کشمیر مصنفہ محمد اسد اللہ قریشی صفحہ 132) اور بڑے تحقیقی کام سر انجام دیتے رہے۔خدام الاحمدیہ میں بھی ایک لمبا عرصہ ان کو خدمت کا موقع ملا۔دو تین سال ماہنامہ انصار اللہ کے اور مجلہ جامعہ کے مدیر رہے۔تقریباً بارہ تیرہ سال پر نٹر خالد و تشخیز الاذہان بھی الفضل رہے۔ضیاء الاسلام پریس کے مینجر اور پرنٹر رہے۔مینجنگ ڈائریکٹر الشركة الاسلامیہ رہے۔صدر بورڈ الف تھے۔پہلے مینیجنگ ڈائریکٹر ایم۔ٹی۔اے پاکستان تھے۔ڈائریکٹر فضل عمر فاؤنڈیشن اور طاہر فاؤنڈیشن تھے ، ناظر اشاعت تھے اور یہ متعدد کمیٹیوں کے ممبر رہے ہیں۔قائم مقام ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی کے فرائض کی ادائیگی کی بھی ان کو توفیق ملی۔کشمیری زبان میں ترجمہ قرآن کی نظر ثانی کی توفیق پائی۔بطور ناظر اشاعت حضرت مسیح موعود علیہ