خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 624
خطبات مسرور جلد نهم 624 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 دسمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 23 دسمبر 2011ء بمطابق 23 فتح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جو انسان دنیا میں آیا ایک دن اس نے رخصت ہونا ہے، یہ قانونِ قدرت ہے اس سے کسی کو مفر نہیں۔قرآن کریم میں بھی کئی جگہ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران : 186) کہ ہر جان موت کا مزا چکھنے والی ہے کہہ کر مختلف رنگ میں اس طرف توجہ دلائی کہ انسان کو اپنی موت کو سامنے رکھنا چاہئے کہ اسی سے پھر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ رہتی ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی ذات کے باقی رہنے اور باقی ہر چیز جو اس زمین پر ہے بلکہ اس کائنات میں ہے، بلکہ کائناتوں میں ہے ، سب کے فنا ہونے کی خبر دی ہے۔پس جب خدا تعالیٰ کی ذات ہی باقی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کو اس دنیا کی زندگی سے زیادہ اگلے جہان کی زندگی کی طرف توجہ دلائی ہے ، جو حقیقی اور لمبی زندگی ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی وجہ سے اُس کے انعامات کا بھی وارث ہو گا اور نافرمانی کی وجہ سے سزا پانے والا بھی ہو سکتا ہے۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اس دنیا پر انگلی دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔اُس حقیقی دلدار کو راضی کرنے کے لئے اپنی زندگی کا اکثر حصہ گزارتے ہیں یا یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس طرح گزاریں جس سے دلدار راضی ہو۔دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں اور اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں۔اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ خدمت دین کے علاوہ انہیں کوئی دوسری دلچسپی نظر ہی نہیں آتی۔دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں تو اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا یہ بھی حکم ہے کہ حقوق العباد بھی ادا کرو کہ یہ بھی دین ہے۔اپنے عہدوں کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نبھاتے ہیں اور اس کے نبھانے کے لئے راستے کی کسی روک کو خاطر میں نہیں لاتے۔اُن کے سامنے عسر میں میسر میں، تنگی میں، آسائش میں، بیماری میں، صحت میں، صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ میں نے اپنے خدا سے جو عہد کیا ہے اُسے پورا کرنے والا بن سکوں۔جو امانت میرے سپر د ہے اُس کے ادا کرنے کا حق ادا کرنے والا بن سکوں۔ایسے لوگوں کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ (البقرة : 208) اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اپنی جان اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بیچ ڈالتے ہیں۔اُن کے چہروں پر ہر وقت ایک سکون نظر آتا ہے۔گویا نفس مطمئنہ کی تصویر بنے ہوتے ہیں۔