خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 611 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 611

611 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میں چھوٹے پیمانے پر جنگیں شروع ہیں۔آج دنیا کو ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جنگوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ورنہ عالمی جنگ کی صورت بھی بن سکتی ہے۔جس کی تباہی نا قابل بیان ہو گی۔پھر میں نے انہیں لکھا کہ پس ہمیں دنیا کی مادی ترقی کی طرف زیادہ توجہ دینے کی سوچ رکھنے کے بجائے اس کو تباہی سے بچانے کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ تباہی یقینی ہے۔پس مذہبی لیڈروں کو آپس کی دشمنیوں اور حقوق کی تلفی سے دنیا کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور پھر میں نے لکھا کہ کیونکہ آپ دنیا میں ایک آواز رکھتے ہیں۔آپ کی بڑی زیادہ following ہے ، اس لئے اس امر کی کوشش کریں تمام مذاہب عالم کو آج آپس میں تعاون کرتے ہوئے امن کی کوشش کرنی چاہئے اور اس طرح سے اپنے پیدا کرنے والے خدائے واحد کو پہچاننے کی طرف توجہ کریں۔یہ اس خط کا خلاصہ ہے جو اُن کو بھیجا گیا تھا۔اللہ کرے کہ یہ پیغام اُن کی سمجھ میں بھی آجائے اور پڑھ بھی لیا ہو۔یہ لوگ انسانیت کی قدروں کو قائم کرنے والے ہوں اور مذاہب کا احترام کرنے والے ہوں اور سب سے بڑھ کر خدائے واحد کو پہنچاننے والے ہوں۔جیسا کہ شریف صاحب کی رپورٹ سے بھی ظاہر ہے کہ اس موقع پر بعض اور مسلمان مذہبی لیڈر بھی تھے یا بڑے لوگ تھے لیکن پوپ کو اسلام کا اور قرآن کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی تو زمانے کے امام اور جری اللہ کے ایک غلام کو۔پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ احمدی مسلمان نہیں۔اور نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن کریم کی ہتک کرنے والے ہیں۔ہم تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جڑ کر اسلام کی آج تک ایک نئی شان سے کامیابیوں کے نظارے دیکھ رہے ہیں۔بلکہ غیر جن کے دل میں بغض اور کینے نہیں ہیں وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو کام ہے اس میں یقینا آپ نے اپنے مقصد کو پالیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ایک مقدمہ قائم ہوا تھا یہ بڑا مشہور مقد مہ ہے جو ایک پادری ہنری مارٹن کلارک نے قائم کیا تھا۔اصل میں تو اس کے پیچھے اُس شکست کا بدلہ لینا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور عیسائیوں کے درمیان ایک مباحثے میں عیسائیوں کو ہوئی تھی، جس بحث کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب جنگ مقدس میں ملتی ہے۔یہ مقدمہ مارٹن کلارک نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر قتل کا جھوٹا مقدمہ قائم کر کے کیا تھا۔اس کی تفصیل بھی آپ کی کتاب ”کتاب البریہ “ میں ملتی ہے۔بہر حال اس مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اُس وقت کے حج کپتان ڈگلس نے باعزت بری کیا تھا۔آپ نے اس حج کو پیلا طوس ثانی کا خطاب دیا تو یہ بھی ایک لمبی تفصیل ہے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اُس مقدمے میں بہت ذلیل ہوا تھا بلکہ حج نے کہا تھا آپ ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں، ان کے خلاف مقدمہ بھی کر سکتے ہیں۔گزشتہ دنوں مجھے ہمارے آصف صاحب جو ایم۔ٹی۔اے کے ہیں انہوں نے بتایا کہ ہنری مارٹن کلارک کے پڑ پوتے سے رابطہ ہوا ہے اور وہ مجھے ملنا چاہتا ہے تو میں نے انہیں کہا کہ بڑی خوشی سے آجائیں کسی دن اُن کو لے آئیں۔چنانچہ وہ گزشتہ دنوں مجھے ملے یا ملنا تو شاید اتنا اہم نہیں ایک ملاقات ہوتی ہے لوگ ملنے آتے رہتے ہیں لیکن