خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 608
608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم برتری کی ایک مثال بھی پیش کر دیتا ہوں۔گزشتہ دنوں جب میں یورپ کے دورے پر گیا تھا تو واپسی پر ایک جمعہ ہالینڈ میں بھی پڑھایا تھا اور وہاں میں نے وہاں کے ایک سیاستدان، ممبر آف پارلیمنٹ اور ایک پارٹی کے لیڈر جن کا نام خیرت ولڈ ر ہے، کو یہ پیغام خطبہ میں دیا تھا کہ تم لوگ اسلام کے خلاف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو دریدہ دہنی میں بڑھے ہوئے ہو، گھٹیا قسم کی باتیں کر رہے ہو، دشمنی میں انتہا کی ہوئی ہے۔اس چیز سے باز آؤ، نہیں تو اُس خدا کی لاٹھی سے ڈرو جو بے آواز ہے جو اپنے وقت پر پھر تم جیسوں کو تباہ و برباد بھی کر دیا کرتی ہے۔وہ خدا یہ طاقت رکھتا ہے کہ تم جیسوں کی پکڑ کرے۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے پاس طاقت تو کوئی نہیں، ہم دعاؤں سے تم جیسوں کا مقابلہ کریں گے۔اس خطبہ کا خلاصے پر مشتمل پریس ریلیز جو ہمارا پر لیس سیکشن بھیجتا ہے، اُن کے انچارج جب یہ ریلیز بنا کر میرے پاس لائے، تو باقی چیزیں تو انہوں نے لکھی ہوئی تھیں لیکن یہ فقرہ نہیں لکھا تھا۔پھر اُن کو میں نے کہا کہ یہ فقرہ بھی ضرور لکھیں کہ ہمارے پاس کوئی دنیاوی ہتھیار نہیں ہے۔یہی میں نے کہا تھا لیکن ہم دعا کرتے ہیں کہ تم اور تم جیسے جتنے ہیں وہ فنا ہو جائیں۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمارا اپنے تمام مخالفین اور دشمنوں سے مقابلہ یا تو دلائل کے ساتھ ہے یا پھر سب سے بڑھ کر دعاؤں کے ساتھ۔بہر حال یہ پریس ریلیز جو تھی، یہ خیرت ولڈر جو سیاستدان ہے اس نے بھی پڑھی اور انہوں نے اپنی حکومت کو خط لکھا اور حکومت سے ہوم منسٹر سے چند سوال کئے۔جب یہ وہاں پریس میں آئے تو وہاں کی جماعت نے مجھے لکھا کہ اس طرح اُس نے سوال کئے ہیں۔لگتا تھا کہ جماعت والوں کو تھوڑی سی گھبراہٹ ہے اُس پر میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر ہوم آفس والے پوچھتے ہیں تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، پریشان بھی ہونے کی ضرورت نہیں، کھل کر اپنا موقف بیان کریں، بنیاد تو اُس شخص نے خود قائم کی تھی جو غلط قسم کی حرکتیں کر رہا ہے۔جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط فلمیں بھی بنائی ہیں۔انتہائی سخت زبان اُس نے استعمال کی تھی، اسلام کو بدنام کیا تھا۔ہم نے تو اُس کا جواب دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے نبی کی غیرت رکھنے والا ہے اور وہ پکڑ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔بہر حال اُس نے یہ سوال جو اپنی حکومت کو بھیجے تھے ، اُس کے سوالوں کا کچھ دنوں بعد حکومت نے جواب بھی دیا اور یہ وہاں اخبار میں بھی آگیا۔ولڈر نے پہلا اُس نے سوال یہ کیا تھا کہ کیا یہ آرٹیکل کہ World muslim leader sends warning to Dutch politician Geert Wilders عالمی مسلمان رہنما کی ہالینڈ کے سیاستدان خیرت ولڈر کو تنبیہ۔آپ یعنی وزارت داخلہ ہالینڈ کے علم میں ہے ؟ تو وزیر داخلہ نے اُس کو جواب دیا کہ ہاں مجھے علم ہے، یہ آرٹیکل میں نے پڑھا ہے۔پھر اگلا سوال اُس کا یہ تھا (میر انام لیا تھا ) کہ مرزا مسرور احمد نے یہ کہا ہے کہ تم عن لو کہ تمہاری پارٹی اور تمہارے جیسا ہر شخص بالاخر فناء ہو گا۔یہ ولڈر نے منسٹر کو لکھا۔پھر آگے اس کی تشریح خود کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ اس مفسدانہ بیان پر وزارت داخلہ اسلامی تنظیم کے خلاف کیا قدم اُٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے ؟ ڈچ وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ پریس ریلیز کے مطابق مرزا مسرور احمد نے کہا ہے کہ ایسے افراد اور گروہ کسی فساد یا دیگر سیکولر حربوں