خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 607
607 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہیں، عیسائی بھی ہیں، دوسرے مذاہب والے بھی ہیں اور سب بلا استثناء اس کام کو سراہ رہے ہیں کہ یہ عظیم کام ہے جو تم لوگ کر رہے ہو لیکن بد قسمتی سے ایک ملاں ہے۔ان کا بھی ایک طبقہ ہے جو بعض ملکوں میں اس نمائش کی مخالفت کرتا ہے۔اسلام کی تعلیم پھیلانے کی مخالفت کرتا ہے۔میں نے شاید پہلے بھی یہاں بتایا تھا کہ ہندوستان میں دہلی میں ایک بہت بڑے ہال میں جو حکومت سے کرائے پر لیا گیا تھا، ہم نے قرآنِ کریم کی نمائش لگائی تو اس پر وہاں کے ملاں نے اپنے ساتھ چند شر پسندوں کو ملا کر اتنا شور مچایا کہ وہ نمائش جو تین دنوں کے لئے لگئی تھی دو دن میں سمیٹنی پڑی لیکن ان دو دنوں میں بھی اس نے اپنا بھر پور اثر قائم کیا۔وہاں کے ایک بڑے پڑھے لکھے صاحب ہیں جن کا ایک مقام بھی ہے ، وہ نمائش کے بعد وہ قادیان آئے اور پھر بتایا کہ میں پہلی مرتبہ قادیان آیا ہوں اور اس طرف سفر کر کے آیا ہوں اور چاہتا تھا کہ قرآنِ کریم اور اسلام کی اتنی عظیم خدمت کرنے والے جہاں رہتے ہیں وہ جگہ بھی دیکھوں اور پھر قادیان کی مختلف جگہیں دیکھیں اور متاثر ہوئے۔لیکن یہ بھی بڑے افسوس سے میں کہتا ہوں کہ یہاں یو۔کے (UK) میں ایک شہر میں گزشتہ دنوں ہم نمائش لگا رہے تھے تو ملاؤں کے شور کی وجہ سے پولیس نے وہاں ہماری انتظامیہ کو نمائش نہ لگانے کی درخواست کی۔اصول تو یہ ہونا چاہئے کہ ہمیں دلائل سے رد کر دینا چاہئے لیکن وہاں کی مقامی جماعت یا جماعت کی مقامی انتظامیہ نے اُن کی یہ بات مان لی اور نمائش کینسل کر دی۔اگر یہاں اس ملک میں یا ان ملکوں میں یورپ میں، جہاں ہر طرح کی آزادی ہے اور حکومت کی طرف سے آزادی دینے کا اعلان کیا جاتا ہے ، اگر ہم نے ملاں کو سر پر چڑھا لیا تو ہم اس ملک میں بھی شدت پسندی کو فروغ دینے والے بن جائیں گے۔یہ بات ہمیں انتظامیہ کو بھی اچھی طرح باور کروانی چاہئے اور اس نمائش کا دوبارہ اہتمام کرنا چاہئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خاموشی سے لگالی جائے۔اگر خاموشی سے لگانی ہے تو اس کا فائدہ کیا ہو گا؟ ایک طرف دعویٰ ہے کہ ہم نے جری اللہ کے مشن کو آگے بڑھانا ہے اور دوسری طرف پھر ہم مداہنت بھی دکھائیں؟ یہ نہیں ہو سکتا۔اس ملک میں جیسا کہ میں نے کہا قانون کی حکمرانی ہے، حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے تو قانون سے کہیں کہ تمہارا کام اس کو نافذ کرنا ہے اور ہر شہری کے حق کی ادائیگی کرنا اور اُسے تحفظ دینا۔اور یہ تم کرو۔بہر حال یہ حال ہے ملاں کا کہ غیر مسلم ممالک میں ، جیسے ہندوستان یا یہاں انگلستان میں جب قرآن اور اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے تو غیر مسلم نہیں بلکہ یہ نام نہاد مسلمان علماء کھڑے ہوتے ہیں۔کہ ہیں! یہ کس طرح ہو سکتا ہے ایسا خطر ناک کام، قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے کا کام یہ احمدی کر رہے ہیں، یہ ہم کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے۔یہ ہے ان اسلام کے ٹھیکیداروں کی اصل تصویر اور رُخ۔لیکن ہم نے اپنا کام کئے جانا ہے۔ہم نے ہر صورت میں اسلام کے مخالفین کے منہ بند کرنے ہیں اور قرآنِ کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہے انشاء اللہ تعالی۔اور ظاہر ہے ہم یہ کرتے چلے جائیں گے تاکہ دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لانے کی کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا مغربی ممالک کی یہ عمومی خوبی ہے کہ ہر ایک کو قانون کے سامنے ایک نظر سے دیکھتے ہیں اس لئے یہاں اگر ہمارے کام میں کوئی روک ڈالتا ہے تو ہمیں قانون کی مدد لینی چاہئے۔یہاں ان کے قانون کی