خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 603
603 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم عملی رنگ میں اُس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔اور اُس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبتِ الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندرلیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے اُن کا قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہیں۔دنیا کی آنکھ وہ شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اُس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو حسین یا کسی بزرگ کی جو ائمہ مطہرین میں سے ہے، تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اُس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔کیونکہ اللہ جل شانہ اُس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزید وں اور پیاروں کا دشمن ہے“۔شخص ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 653-654 اشتہار نمبر 270 " تبليغ الحق " مطبوعہ ربوہ) پس یہ ہے وہ خوبصورت اور انصاف پر مبنی تعلیم اور مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے اور فرقہ بندی کو ختم کرنے کی تعلیم جو اللہ تعالیٰ کے اس بھیجے ہوئے اور فرستادے نے ہمیں دی ہے۔جو اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام صادق بن کر صلح اور سلامتی کا پیغام لے کر آیا تھا۔خدا کرے کہ مسلم امہ اس پیغام کو سمجھے اور فرقہ بندیوں اور فسادوں اور ایک دوسرے کے قتل وغارت سے بچے تا کہ اسلام ایک نئی شان سے دنیا کے کونے کونے تک اپنی چمک اور دمک دکھائے۔اللہ کرے یہ محرم کا مہینہ ہر جگہ امن و امان اور سلامتی کے ساتھ گزرے۔ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رکھنے والا ہو۔مسلمان ملکوں کی عمومی حالت اور فسادات سے بچنے کے لئے بھی بہت زیادہ دعا کریں۔اکثر ملک آجکل بہت بُرے حالات میں سے گزر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شر پسندوں کے شر سے اسلام اور مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔مسلمان ملکوں میں ، اکثر میں جیسا کہ میں نے کہا اندرونی فساد اور شر بھی ہیں جن سے وہاں امن بر باد ہو رہا ہے اور بجائے ترقی کے تیزی سے پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔دنیا کی عمومی معاشی حالت بھی بے چینیاں پیدا کر رہی ہے جس کا اگر یہاں مغرب پر اثر ہے تو مسلمان ملکوں پر مشرق میں بھی اور ہر جگہ اثر ہے۔اور پھر ایک تیسری بڑی گھمبیر صور تحال جو پیدا ہو رہی ہے اور ہونے والی ہے وہ بظاہر جو لگ رہا ہے کہ دنیا عالمی جنگ کی طرف بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ انسانیت پر رحم کرے۔اُن کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے۔ہمیں ان دنوں میں بہت زیادہ دعائیں بھی کرنی چاہئیں اور ہر قسم کی احتیاطی تدابیر بھی کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 23 دسمبر تا 29 دسمبر 2011 ءجلد 18 شمارہ 51 صفحہ 5 تا9)