خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد نهم 601 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خلفائے راشدین یا صحابہ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے تعلق اور محبت کا اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے تھا۔اور جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اسے آپ ایمان کا جزو سمجھتے تھے۔ایک دوسری جگہ آپ اس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”ہمارا ایمان ہے کہ بزرگوں اور اہل اللہ کی تعظیم کرنی چاہئے لیکن حفظ مراتب بڑی ضروری شئے ہے“۔تعظیم تو کرنی چاہئے لیکن ہر ایک کا اپنا اپنا مر تبہ اور مقام ہے اُس کے مطابق ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ حد سے گزر کر خود ہی گنہ گار ہو جائیں۔( غلو سے کام نہیں لینا چاہئے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے نبیوں کی ہتک ہو جائے۔وہ شخص جو کہتا ہے کہ گل انبیاء علیهم السلام حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی امام حسین کی شفاعت سے نجات پائیں گے اُس نے کیسا غلو کیا ہے جس سے سب نبیوں کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک ہوتی ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 268-269 حاشیہ مطبوعہ ربوہ) پھر حضرت علییؓ اور حضرت حسین سے اپنی مناسبت بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ” اور مجھے علی اور حسین کے ساتھ ایک لطیف مناسبت حاصل ہے۔اور اس راز کو مشرقین اور مغربین کے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اور میں، علی اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں۔اور جو اُن سے عداوت رکھتا ہے اُن سے میں عداوت رکھتا ہوں۔اور بائیں ہمہ میں جور و جفا کرنے والوں میں سے نہیں۔اور یہ میرے لئے ممکن نہیں کہ میں اس سے اعراض کروں جو اللہ نے مجھ پر منکشف فرمایا۔اور نہ ہی میں حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہوں۔“ یہ بھی سر الخلافہ کا ترجمہ ہے۔(اردو ترجمه از عربی عبارت، سر الخلافہ ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 359) پھر اس مناسبت کو مزید کھول کر آپ فرماتے ہیں کہ : اسلام میں بھی یہودی صفت لوگوں نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنی غلط فہمی پر اصرار کر کے ہر ایک زمانہ میں خدا کے مقدس لوگوں کو تکلیفیں دیں۔دیکھو کیسے امام حسین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ہزاروں نادان یزید کے ساتھ ہو گئے “۔( امام حسین کو چھوڑ کر ہزاروں نادان یزید کے ساتھ ہو گئے ) اور اس امام معصوم کو ہاتھ اور زبان سے دکھ دیا۔آخر بجز قتل کے راضی نہ ہوئے اور پھر وقتاً فوقتاً ہمیشہ اس امت کے اماموں اور راستبازوں اور مسجد دوں کو ستاتے رہے اور کافر اور بے دین اور زندیق نام رکھتے رہے۔ہزاروں صادق ان کے ہاتھ سے ستائے گئے اور نہ صرف یہ کہ ان کا نام کا فر رکھا بلکہ جہاں تک بس چل سکا قتل کرنے اور ذلیل کرنے اور قید کرانے سے فرق نہیں کیا۔یہاں تک کہ اب ہمارا زمانہ پہنچا اور تیرھویں صدی میں جابجا خود وہ لوگ یہ وعظ کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں امام مہدی یا مسیح موعود آئے گا اور کم سے کم یہ کہ ایک بڑا مجدد پیدا ہو گا لیکن جب چودھویں صدی کے۔