خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 586
586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ترجیحات اور قدریں ہی بالکل بدل دی ہیں اور پھر وہ حکومت قائم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔اپنے ہی عوام پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔اور پھر اسلام دشمن طاقتیں یا بڑی طاقتیں یا مفاد حاصل کرنے والی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے ، ملک کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے ان فسادات کو جو عوام کی طرف سے حکومت کے ظلموں سے نجات کے لئے کئے جاتے ہیں اور زیادہ ہوا دیتی ہیں۔مدد کے نام پر آتے ہیں اور پھر یہ ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے جو ملک کی ترقی کو بھی سو سال پیچھے لے جاتا ہے اور عوام کی آزادی کی کوشش کو بھی مزید غلامی میں جکڑ لیتا ہے۔اگر بر او راست نہیں تو بالواسطہ اپنوں کی غلامی سے نکل کر غیروں کی غلامی میں چلے جاتے ہیں۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بعض بڑی طاقتیں جن حکومتوں کی پشت پناہی کر کے انہیں سالوں کرسی پر بٹھائے رکھتی ہیں اور عوام کی آزادی کے سلب ہونے کی کبھی کوئی پرواہ نہیں کرتیں، ان کے اپنے مفادات جب اُن حکومتوں سے ختم ہو جاتے ہیں تو عوام کی آزادی کے نام پر اُن حکومتوں کے تختے الٹائے جاتے ہیں ، اُن کو نیچے اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن اب بعض ملکوں میں ماضی قریب میں ایسی صور تحال پیدا ہوئی ہے کہ جب تختے الٹے اور نئی حکومتیں بنی ہیں تو اُن کو دیکھ کر یہ طاقتیں بھی پریشان ہونے لگ گئی ہیں کہ ہماری مرضی کی حکومتیں نہیں آئیں۔بعض جگہوں پر اُن کی مرضی کی تبدیلیاں نہیں ہوئیں یا ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں کہ تبدیلیاں نہیں ہوں گی۔یہ چیزیں پھر اُن کی پریشانی کا باعث بن رہی ہیں اور پھر ایک اور فساد کا سلسلہ اور منافقت کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے بلکہ بعض جگہوں پر ہو چکا ہے۔عوام بھی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ایک حکومت کی غلامی سے نکل کر دوسرے کی حکومت کی غلامی میں جارہے ہیں اور بعض جگہوں پر تو چلے گئے ہیں۔اب اُن کو احساس پید اہو گیا ہے کہ ملکی دولت اب بھی عوام کی بہبود پر ، اُن کی بہتری کے لئے ، اُن کو حق و انصاف دلانے کے لئے ، اُن کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے خرچ نہیں ہو رہی اور نہ ہو گی کیونکہ جو حکومتیں آرہی ہیں وہ بھی اپنے مفادات لے کر آرہی ہیں۔عوام میں غربت اور کم معیارِ زندگی پہلے بھی تھا اور آئندہ بھی جو خوش فہمی ہے کہ ڈور ہو جائے گاوہ نہیں دُور ہو گا بلکہ قائم رہے گا۔یہ کچھ عرصے بعد آپ خود ہی دیکھ لیں گے۔اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر حکمران عمل نہیں کرتے۔مسلمان کہلاتے ہیں لیکن آپ کی نصیحت پر عمل کرنے والے نہیں۔پہلے زمانوں میں تو ایک شخص اپنی دولت کے بل بوتے پر غلام رکھتا تھا۔اب ملکی دولت کو ملک کے عوام کو ہی غلام بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اب تو میڈیا بھی بولنا شروع ہو گیا ہے اور ظاہر بھی کرتا ہے تصویریں بھی آجاتی ہیں کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں بھی غربت و افلاس ہے۔ایک طرف سونے کے محلات ہیں تو دوسری طرف ایک گھرانے کو دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر مہیا نہیں ہوتی۔پس حقوق غصب کر کے عوام کو غلام بنایا جارہا ہے اور بنادیا گیا ہے۔کہاں تو وہ زمانہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب اپنی فوجوں کو عیسائی علاقے سے واپس بلانا پڑا کہ اُس وقت دشمنوں کی طاقت کی وجہ سے مسلمان اپنا قبضہ اُس علاقے میں بر قرار نہیں رکھ سکتے تھے تو ان عیسائیوں کو مسلمانوں نے اُن سے لی ہوئی وہ رقم واپس کی جو ٹیکس کے طور پر تھی اور اُن کی حفاظت اور بہبود کے لئے تھی، اُن