خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 585

خطبات مسرور جلد نهم 585 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء یہ پر وفیسر دیگیری جو ہیں ، انہوں نے اٹالین میں کتاب لکھی ہے۔اس کا انگلش میں ترجمہ ہوا ہے اور اس میں اسلام کی تعلیم کے بارے میں بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ایک زمانے میں جماعت احمد یہ امریکہ نے یہ کتاب شائع کی تھی اس کو دوبارہ شائع کرنا چاہئے۔اگر کسی کے نام اُس وقت کے حقوق محفوظ نہیں ہیں اور امریکہ والوں کو اجازت ملی تھی تو اس کو شائع کرنا چاہئے۔یہ ان دشمنوں کا منہ بند کرنے کے لئے بہت کافی ہے جو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے ہیں۔پس یہ تعلیم، یہ اسوہ جس کا اعتراف غیر بھی کئے بغیر نہیں رہے وہ عظیم الشان تعلیم اور اسوہ ہے جو انسان کی آزادی کی حقیقت ہے۔یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں۔قرآنِ کریم اور احادیث میں ہمیں اس بارے میں بے شمار احکامات اور رہنمائی اور ہدایات ملتی ہیں اور یہی حقیقی تعلیم ہے جس پر کار بند ہو کر دنیا کو آزادی مل سکتی ہے اور امن، انصاف اور صلح کا قیام ہو سکتا ہے۔افریقہ میں جن کو آزادی ملی ہے وہاں جماعت احمدیہ کا ، اُن لوگوں کا جو احمدی ہوئے یہ کام ہے کہ اس تعلیم کو عام کریں، اس کو پھیلائیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لائیں تا کہ اُن کو آزادی کی حقیقت معلوم ہو۔صرف ایک دفعہ گولڈن جوبلی منا لینے سے آزادی نہیں قائم ہوتی بلکہ آزادی اُس وقت قائم ہو گی جب جو حکمران ہیں وہ بھی اور جو عوام ہیں وہ بھی اس حقیقت کو جانیں گے کہ ہم نے کس طرح اس آزادی کو قائم رکھنا ہے اور اس کے لئے کیا طریق اختیار کرنا ہے اور وہ طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں اور قرآنی تعلیم میں ہی ملے گا۔ویگیری صاحبہ نے تو صرف مسلمان غلام نہیں بن سکتا لکھا ہے لیکن جو حقیقی مسلمان معاشرہ ہے اس میں کبھی بھی کوئی غلام نہیں بن سکتا۔یہ بات بھی ایک مسلمان کے لئے بہت اہم ہے اور ہمیشہ یادر کھنی چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل جو آخری نصیحت اُمت کو فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ نمازوں اور غلاموں کے متعلق میری تعلیم کو نہ بھولنا۔(سنن ابن ماجه كتاب الوصايا باب هل أوصى رسول الله مع اللہ حدیث 2698) لیکن مسلمانوں کی اکثریت کی اور خاص طور پر امراء اور ارباب حکومت کی یہ بدقسمتی ہے کہ ان ہی دونوں تعلیموں کو بھلا بیٹھے ہیں۔نہ ہی نمازوں میں وہ ذوق و شوق نظر آتا ہے اور خوف خدا نظر آتا ہے ، نہ ہی غلامی کو دور کرنے کی کوشش ہے۔گو وہ زر خرید غلاموں والی کیفیت تو آج نہیں ہے لیکن حکومت کے نام پر عوام سے غلاموں والا سلوک کیا جاتا ہے۔بعض ملکوں میں جو بے چینی اور شور شرابہ ہے، خاص طور پر بعض مسلمان عرب ملکوں میں بھی وہ اس لئے ہے کہ عوام الناس کو یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ ہم سے غلاموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ایک حکومت جمہوریت کے نام پر آتی ہے تو پھر اُس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جو صدر بنا ہے وہ تاحیات رہے اور اُس کے بعد جو اُس کی اولاد ہے وہ حکومت پر قبضہ کرلے۔خوشامدیوں اور مفاد پرستوں نے ان لوگوں کے ارد گرد جمع ہو کر اُن کی