خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 584
خطبات مسرور جلد نهم 584 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء بعضوں نے ہزاروں گئے۔جن کے پاس کام کاج کے لئے بھی غلام تھے انہیں بھی اسلامی تعلیم یہ ہے کہ ان سے بھائیوں جیسا سلوک کرو۔جو خود پہنو، انہیں پہناؤ۔جو خود کھاؤ، انہیں کھلاؤ۔(بخاری کتاب الایمان باب المعاصى من أمر الجاهلیة۔۔۔حدیث نمبر (30) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا اسوہ یہ تھا کہ حضرت خدیجہ نے جب شادی کے بعد دولت اور اپنے غلام آپ کو دے دیئے تو آپ نے آزاد کر دیئے۔اُن میں سے ایک غلام حضرت زید بن حارثہ تھے اُن کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا اور ایسا شفقت اور پیار کا سلوک فرمایا کہ جب اُن کے حقیقی والدین اُن کو لینے آئے تو زید نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 2 زيد بن حارثة صفحه 141-142 دار الفکر بیروت 2003) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حسن سلوک تھا۔حسن و احسان کے کمال کی یہ وہ معراج تھی جس نے آزادی پر غلامی کو ترجیح دی، جس نے آپ کی محبت کے مقابلے میں خونی رشتے اور محبت کو جھٹک دیا۔پس اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے والے اس آزادی کے ہزارویں بلکہ لاکھویں حصے کی مثال پیش نہیں کر سکتے کہ کسی نے کبھی اس حد تک غلاموں کی آزادی کے سامان کئے ہوں، انسانیت کی آزادی کے سامان کئے ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو فرمایا کہ اپنے غلاموں سے اُن کے کام کاج کے دوران حسن سلوک کرو۔اور اگر سخت کام دو تو اُن کا ہاتھ بٹاؤ۔(بخاری کتاب الایمان باب المعاصى من أمر الجاهلیة۔۔۔حدیث نمبر (30) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلامی کی تعریف بدل دی۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک اٹالین مستشرق ہے، ڈاکٹر ویگلیری (Vaglieri) لکھتی ہیں کہ : غلامی کا رواج اُس وقت سے موجود ہے جب سے انسانی معاشرے نے جنم لیا اور اب تک بھی باقی ہے۔مسلمان خانہ بدوش ہوں یا متمدن، ان کے اندر غلاموں کی حالت دوسرے لوگوں سے بدرجہا بہتر پائی جاتی ہے۔یہ ناانصافی ہو گی کہ مشرقی ملکوں میں غلامی کا مقابلہ امریکہ میں آج سے ایک سو سال پہلے کی غلامی سے کیا جائے۔حدیث نبوی کے اندر کس قدر انسانی ہمدردی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ مت کہو کہ وہ میر اغلام ہے بلکہ یہ کہو کہ وہ میر الڑکا ہے۔اور یہ نہ کہو کہ وہ میری لونڈی ہے بلکہ یہ کہو کہ وہ میری لڑکی ہے“۔پھر لکھتی ہیں کہ ”اگر تاریخی لحاظ سے اُن واقعات پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں عظیم الشان اصلاحیں کیں۔اسلام سے پہلے قرضہ ادانہ ہونے کی صورت میں بھی ایک آزاد آدمی کی آزادی کے چھن جانے کا امکان تھا“۔(اگر ایک شخص نے کسی سے قرض لیا ہے اور وہ قرض ادا نہیں کر سکا تو جب تک وہ قرض ادا نہیں کرتا تھا اس کو قرض دینے والے کی غلامی کرنی پڑتی تھی یا اس کے امکانات موجود تھے ) لکھتی ہیں کہ ”لیکن اسلام لانے کے بعد کوئی مسلمان کسی دوسرے آزاد مسلمان کو غلام نہیں بنا سکتا تھا۔خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلامی کو محدود ہی نہیں کیا بلکہ آپ نے اس بارے میں اوامر و نواہی جاری کئے اور مسلمانوں کو کہا کہ وہ قدم آگے بڑھاتے رہیں حتی کہ وہ وقت آجائے جب رفتہ رفتہ تمام غلام آزاد ہو جائیں“۔page (An Interpretation of Islam by Laura Veccia Vaglieri translated by Dr۔Aldo Caselli no۔72-73 The Oriental & Religious Publishing Corporation Limitd Rabwah Pakistan)